ہم اپنے پورے تشخص اور مذہبی شناخت کے ساتھ اس ملک میں رہیں گے:مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی یادگار تقریر

,

   

ہمارے فضلاۓ مدارس جہاں جہاں کے بھی رہنے والے ہوں وہاں کی مسجدوں میں تقریر کریں، جمعہ کے دن تقریر کریں عیدین میں تقریر کریں، خوشیوں کے موقع پر اور نکاح وغیرہ کی مجلسوں میں تقریر کریں کہ ہم کو اپنے پورے ملی تشخص کے ساتھ اس ملک میں رہنا ہے، کسی ایک چیز کو نہیں چھوڑنا ہے، ہم اس چیز کےلیے بھی تیار نہیں کہ ہمارا پائجامہ ٹخنے سے نیچے ہو، ہم پورے شریعت پر عمل کریں گے ہمارا نظام تعلیم بھی وہی رہے گا، ہم اپنے بچوں کو توحید کی تعلیم دیں گے، دنیات پڑھائیں گے اردو سے واقف کرائیں گے، اردو رسم الخط کو زندہ رکھیں گے، یہ سب سے بڑی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے۔

مولانا مزید کہتے ہیں کہ۔

ہم سب کو اپنی ذمہ داری بہتر طریقہ پر ادا کرنا ہوگا، آپ اس بات کو سن لیجئے اور ذہن میں لکھ لیجئے کہ اس وقت کا سب سے بڑا فتنہ متحدہ کلچر ہے، اور ملی تشخص سے دست بردار ہوناہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دینی وعلمی حلقہ بعض لوگ بھی جو قلم کا استعمال اور زبان کا استعمال جانتے ہیں وہ بھی اس بات کا دعویٰ کرنے لگے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی بات پر ضد نہیں کرنا چاہیے، اور پرسنل لاء کے سلسلے میں جو سپریم کورٹ کے خلاف چلینج کرتے ہیں یہ بھی غلطی ہے مسلمانوں کی کہ خامخواہ کےلیے ہندووں میں ایک ردعمل پیدا ہوا، اور وہ سمجھے کہ مسلمان تنگ نظر ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے ہم یہاں اپنی خصوصیات کے ساتھ رہیں گے اور امید رکھتے ہیں کہ اللہ ہم کو اس ملک کی قیادت عطا فرمائے گا۔

مولانا نے مزید کہا کہ۔

اور ہمارا یقین اس وجہ سے ہے کہ اس ملک کی آبادی کا کوئی بھی عنصر اپنے اپ کو اس قابل نہیں رکھا ہے کہ وہ اس ملک کو خطرہ سے بچائیں، سب دولت پرست ہیں، مادہ پرست ہیں نفس پرست ہیں، طاقت پرست ہیں اور اقتدار پرست ہیں، اسی لئے ہم عزت کے ساتھ اور اپنے تشخصات کے ساتھ رہیں گے، سر اونچا کرکے چلیں گے، ہماری نگاہیں شرم سے جھکی نہیں رہیں گیں، بلکہ ہماری نگاہیں بلند ہونگی، اور ہم سمجھیں گے جو کچھ ہم کر رہے ہیں صحیح کر رہے ہیں ہندوستان کا دستور ہمیں اسکی اجازت دیتا ہے، اور ہندوستان اسی حالت میں رہ سکتا ہے کہ ایک دوسرے کو خوشحالی اور ازادی دی جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب پر عمل کریں، مذہبی شعائر کا مظاہرہ کرسکیں اور ملی تشخص کو برقرار رکھیں۔

دیکھیں ویڈیو۔

YouTube video