ہم نوٹ بندی کے اقدام کا جائزہ لیں گے : سپریم کورٹ

,

   

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اسے حکومت کے پالیسی فیصلوں کا عدلیہ کی جانب سے جائزہ لینے کے معاملہ میں ’’لکشمن ریکھا‘‘ (حد) کا بخوبی علم ہے لیکن اسے 2016ء کے نوٹ بندی فیصلہ کا جائزہ لینا پڑے گا تاکہ یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے کہ آیا یہ مسئلہ محض ضابطہ کا عمل بن چکا ہے؟ یہ بیان کرتے ہوئے کہ جب کوئی مسئلہ دستوری بنچ کے روبرو پیش کیا جاتا ہے تو اس کا جواب دینا فرض ہوتا ہے، جسٹس ایس اے نذیر کی قیادت والی پانچ رکنی بنچ نے مرکز اور ریزرو بینک آف انڈیا کو ہدایت دی کہ 500 روپئے اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم کردینے کے فیصلہ کے جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر 9 نومبر تک جامع حلف نامہ داخل کریں۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے بیان کیا کہ جب تک نوٹ بندی سے متعلق ایکٹ کو باقاعدگی سے چیلنج نہیں کیا جاتا، یہ مسئلہ لازماً ضابطہ کی تکمیل والا عمل ہی برقرار رہے گا۔ اونچی قدر والے بینک نوٹ (نوٹ بندی) سے متعلق قانون 1978ء میں منظور کیا گیا تھا تاکہ مفاد عامہ میں بعض بڑے کرنسی نوٹوں کی نوٹ بندی کی گنجائش فراہم کی جاسکے۔ اس کے مقاصد میں معیشت کیلئے نقصاندہ غیرقانونی رسمی منتقلی کا سدباب شامل ہے اور یہ غیرقانونی کام بڑے کرنسی نوٹوں سے زیادہ ممکن ہے۔ فاضل عدالت نے کہا کہ نوٹ بندی کے فیصلے کو بامقصد عمل قرار دینے یا پھر اسے بے ثمر اقدام بتانے کیلئے اسے اس معاملہ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں فریق متفق نہیں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے جواب دینا ہوگا کہ آیا یہ باقاعدہ ٹھیک عمل ہے یا اس کے برعکس اور یہ بھی کہ اسے عدلیہ کے جائزہ میں لایا جاسکتا ہے یا نہیں۔ اس کیس میں ایک نکتہ حکومت کی پالیسی اور اس کی معقولیت سے متعلق ہے جس کا جائزہ لینا ہوگا۔ اس بنچ میں جسٹس وی آر گوائی ، جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس وی رام سبرامنیم اور جسٹس بی وی ناگرتنا بھی شامل ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ہمیں اپنی حد کا بخوبی علم ہے اور ہم اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے کام کریں گے۔ ہمیں وکلاء کے دلائل کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگا۔ مرکزی حکومت کی طرف سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ عدالت کا وقت معمول کے اقدامات والے مسائل پر ضائع نہیں ہونا چاہئے۔