ہم ہر معاملے کی سماعت نہیں کر سکتے: چیف جسٹس

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو دہلی کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کا معاملہ دہلی ہائی کورٹ کو بھیجتے ہوئے کہا کہ ہم ہر معاملے کی سماعت نہیں کر سکتے۔ ڈی سی پی سی آر نے اپنے فنڈز کو مبینہ طور پر روکے جانے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ڈی سی پی سی آر کی اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ آپ براہ راست سپریم کورٹ آنے کے بجائے دہلی ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟ دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان ہر تنازعہ کو براہ راست سپریم کورٹ میں کیوں لایا جاتا ہے؟ ہم اس طرح ہر کیس نہیں سن سکتے۔ ہم صرف آئینی پہلوؤں پر براہ راست سن سکتے ہیں۔ عام بات پر نہیں۔دہلی چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن کے وکیل گوپال شنکر نارائنن نے کہا کہ یہ کمیشن کا معاملہ ہے، پیسے کا نہیں۔ اس پر سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ کل ہمارے سامنے صرف مارشل کا معاملہ آیا۔ ہم معمول کے مقدمات نہیں سن سکتے جن کا کوئی آئینی مضمرات نہ ہو۔بنچ میں جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس منوج مشرا بھی شامل ہیں۔ بنچ نے ڈی سی پی سی آر کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ گوپال شنکر نارائنن سے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ جائیں۔ ہمیں یہاں (آرٹیکل)32 کے تحت درخواست پر کیوں غور کرنا چاہئے۔شنکرارائنن نے کہا کہ کمیشن کی طرف سے دائر عرضی دیگر تنازعات سے تھوڑی مختلف ہے جو دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان اب تک سپریم کورٹ میں آئے ہیں۔