ہندوستانی اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں بھی ملازمین کی برطرفی

   

آئندہ تین ماہ تک نئی ملازمتوں کی فراہمی کے امکانات موہوم
حیدرآباد۔8۔فروری(سیاست نیوز) دنیا بھر میں سرکردہ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں میں ملازمین برطرفی کے رجحان کے دوران ہندستانی اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں بھی ملازمین کو برطرف کئے جانے کے رجحانات میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ سہ ماہی کے دوران بھی اسٹارٹ اپ میں نئی ملازمتوں کی فراہمی کے امکانات موہوم ہیں جبکہ جاریہ سال کے تیسرے سہ ماہی کے دوران حالات میں بہتری کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ ہندستان میں سال 2022کے آخری سہ ماہی کے دوران یعنی اکٹوبر تاڈسمبر کے دوران6000 ملازمین کو اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی جانب سے برطرف کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ نئے سال میں پہلے ایک مہینہ کے دوران 4000ملازمین کو اسٹارٹ اپ کمپنیوں کی جانب سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ سال 2023کے آغاز کے ساتھ ہی اسٹارٹ اپ کمپنیوں سے ملازمین کی برطرفی اور کمپنیوں کی مالی حالت میں عدم استحکام کے سلسلہ میں ماہرین کا کہناہے کہ عالمی سطح پر سرکردہ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں میں پیدا ہونیو الی صورتحال کا اثر ہندستان کی اسٹارٹ اپ کمپنیوں پر پڑنے لگا ہے اور ان کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی خدمات کو برخواست کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں کی گئی سرمایہ کاری سے دستبرداری اور سرمایہ نکاسی کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کے نتیجہ میں نئی اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں ملازمین کو برطرف کیا جانے لگا ہے اور 2023کے آغاز کے ساتھ اس عمل میں پیدا ہونے والی تیزی کے نتیجہ میں ماہ جنوری کے دوران 4000 افراد کو اپنی ملازمتوں سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی انحطاط کے نتیجہ میں سرمایہ نکاسی کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کے سبب Ola ‘ Swiggy اور Byju’s جیسی کمپنیوں نے نئی ملازمتوں کی فراہمی میں تخفیف کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تعداد کو بھی کم کرنے کے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ ملک بھر میں اسٹارٹ اپ کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تعداد 2لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور سال 2023کے آخری سہ ماہی کے دوران 2 فیصد ملازمین کو خدمات سے برطرف کرنے کے اقدامات کا دعویٰ کیا جا رہاہے لیکن ملازمین کا کہناہے کہ بیشتر ملازمین کو بغیر کسی اطلاع کے برطرف کئے جانے کے سبب وہ فوری اثر کے ساتھ بے روزگار ہونے لگے ہیں جو کہ ان کے لئے مشکل صورتحال کا سبب بن رہا ہے۔ م