محمد ریحان
دنیا میں ایسی شخصیتیں بہت کم ہوتی ہیں جو غیر معمولی خداداد صلاحیتوں کی حامل ہوتی ہیں اور جو خاص و عام کی زندگیوں کو آسان بنانے انہیں تمام تر سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی، یہ ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں جو دنیا کو حقیقت میں انسانوں کے رہنے کے قابل بناتی ہیں۔ شہروں کو اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ ایک نئی شکل دیتی ہیں ایسی ہی شخصیتوں میں محمد فیاض الدین نظامی مرحوم بھی شامل ہیں۔ ان کا شمار ہندوستان کے قابل ترین ٹاؤن پلانرس میں ہوا کرتا تھا۔ ایسے ٹاؤن پلانرس میں جنہوں نے ہندوستان کو جدید ہندوستان میں تبدیل کیا محمد فیاض الدین کا نمایاں مقام تھا۔ محمد فیاض الدین نظامی ایک ممتاز آرکٹکٹ اور ٹاؤن پلانر تھے جنہوں نے ہندوستان کے جدید شہروں کو وجود میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ٹاؤن پلاننگ کے شعبہ کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی پیدائش 22 ستمبر 1903 کو حیدرآباد میں ہوئی اور 1977 میں وہ اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی نمایاں خدمات کو دیکھتے ہوئے ۔ 1977 میں پدم شری ایوارڈ عطا کیا گیا۔ انہو ںنے چیف ٹاؤن پلانر کی حیثیت سے غیر معمولی خدمات انجام دیں اور پھر بعد میں ریاست حیدرآباد کے ڈائرکٹر ٹاؤن پلاننگ کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ محمد فیاض الدین نظامی مرحوم نے جڑواں شہر حیدرآباد و سکندرآباد کا ماسٹر پلان تیار کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ملک کے دوسرے کئی شہروں کے ماسٹر پلان تیار کئے۔ محمد فیاض الدین نظامی نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ یوروپی آرکٹکچرل اصول و قواعد کو ہندوستانی ضروریات کے مطابق ڈھالا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ وہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹاؤن پلانرس انڈیا (ITPI) کے 15 بانیوں میں سے ایک تھے۔ اس ادارہ کا قیام 1951 میں عمل میں آیا تھا اور اس کی اہم بات یہ تھی کہ محمد فیاض الدین نظامی اس کے پہلے صدر رہے۔ پہلی مرتبہ 1951-54 اور دوسری مرتبہ 1957-58 مذکورہ ادارہ کی صدارت کی۔ وہ ایک بلندیایہ منصف اور مفکر و دانشور کی حیثیت سے بھی اپنی شخصیت کا لوہا منوا چکے۔ آپ کو بتادیں کہ عالمی سطح پر ون میان کلکشن کی حیثیت سے مشہور سلارجنگ میوزیم، تہذیبی و ثقافتی مرکز کے طور پر اپنی منفرد شناخت رکھنے والے رویندرا بھارتی تھیٹر، حیدرآبادکی پہچان، اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد، گاندھی بھون اور مولانا آزاد لائبریری کی عمارتیں جنہیں فن تعمیر کی شاہکار عمارتیں کہا جاسکتا ہے ان کے ڈیزائن محمد فیاض الدین نظامی آرکٹکٹ نے ہی تیار کئے تھے۔ سالار جنگ میوزیم کی نئی عمارت کا ڈیزائن انہوں نے ہی تیار کیا تھا۔ یہ بات 1968 کی ہے سالارجنگ میوزیم کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس میں آرٹ و نوادرات کا دنیا کا سب سے بڑا کلکشن رکھا گیا ہے اور ہر روز ہزاروں کی تعداد میں ملک و بیرون ملک کے سیاح اس نادر و نایاب کلکشن کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جہاں تک رویندرا بھارتی تھیٹر (1961) کا سوال ہے یہ حیدرآباد کا اہم تہذیبی و ثقافتی مرکز سمجھاجاتا ہے جس کی تعمیر کا مقصد آرٹ لٹریچر اور پرفارمنگ آرٹ کو فروغ دینا تھا۔ اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کی عمارت (1952) کو Modern institutional architecture کی عمدہ مثال کہا جاتا ہے جہاں تک گاندھی بھون (1956) کا سوال ہے یہ ایک ایسی باوقار عمارت ہے جو اپنی تعمیر کے ساتھ ہی حیدرآباد میں سماجی، تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی۔ 1960 میں مولانا آزاد لائبریری کی عمارت تعمیر کی گئی۔ تعلیمی انفرااسٹرکچر اور مختلف علوم کو عام کرنے میں اس کا بڑا اہم کردار رہا۔
محمد فیاض الدین مرحوم نے لندن میں اعلیٰ علیم حاصل کی اور 1934 میں ہندوستان واپسی ہوکر حیدرآباد اسٹیٹ کی حکومت میں شمولیت اختیار کی 1944 کے دہے میں انہوں نے شہر کو موسیٰ ندی کی تباہ کن طغیانی سے بچانے کے لئے عظیم تر حیدرآباد کے لئے ماسٹر پلان تیار کیا۔ 1951 میں انسٹی ٹیوٹ آف ٹاؤن پلاننگ انڈیا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی میں قائم کیا گیا۔ 1953-54 اور پھر 1957-58 ITPI کے صدر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔ 1963 میں وہ ڈائرکٹر آف ٹاؤن پلاننگ حیدرآباد اسٹیٹ کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا کہ 1977 میں حکومت ہند نے انہیں پدم شری ایوارڈ عطا کیا۔ 1977 میں ہی ان کی وفات ہوئی۔ محمد فیاض الدین نظامی نے صرف ملک بالخصوص حیدرآباد میں اہم عمارتوں کا ڈیزائن تیار نہیں کیا اور شہروں کی بہتر منصوبہ بندی کی اور شہروں کے مستقبل کو یقینی بنایا بلکہ اپنے پیشہ کے فریم ورک کا بھی تعین کیا۔ ان کی بصیرت آج بھی ہندوستان بھر میں آرکٹکچرس، پلانرس اور طلبہ کو ایک نیا عزم و حوصلہ عطا کرتی ہے۔
لندن میں ان کی تعلیم کے بارے میں ہم یہ بتانا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ انہوں نے آرکٹکچرل اسوسی ایشن اسکول آف آرکٹکچر سے تعلیم حاصل کی اور رائل انسٹی ٹیوٹ آف برٹش آرکیٹکٹس سے بھی جڑے رہے۔ انہوں نے بھاولپور اب پاکستان کا ایک ٹاؤن ہے) کا ماسٹر پلان بھی تیار کیا تھا۔ ویکسپڈیا میں محمد فیاض الدین نظامی کے بارے میں جو تفصیلات درج ہیں ان کے مطابق ان کی پیدائش نواب مخیر الدین کے گھر میں ہوئی وہ نواب مخیر الدین کے منجھلے فرزند تھے۔ ان کے تین بھائی افضل الدین، نصیر الدین اور یوسف الدین تھے۔ افضل الدین اور یوسف الدین آرکٹکٹس تھے، سٹی کالج سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد محمد فیاض الدین نظامی نے سر جے جے اسکول آف آرٹ سے تعلیم حاصل کی بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن چلے گئے۔