ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ اور اس کی ترویج کا کام تاریخ کے ہر دور میں ہوتا رہا

   

جامع مسجد عالیہ میں تاریخ اسلام کی نشست، ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد کا لکچر

حیدرآباد۔/15 جنوری، ( پریس نوٹ) اسلام کا پیغام جب مکہ میں فاران کی چوٹیوں سے گونجنے لگا تو اس کی صدائے بازگشت نے چاردانگ عالم میں ایک عظیم انقلاب برپا کردیا اور رفتہ رفتہ اسلام کی حقانیت کی دنیا معترف ہونے لگی۔ آفتاب اسلام کی ضیا پاشیوں نے بت کدہ ہند میں بھی بسنے والوں کے دلوں کو مسخر کردیا اور یہ سارا خطہ مختصر عرصہ میں حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔ ہندوستان میں اسلام کی بیش بہا تعلیمات کے عام ہونے کی مختلف وجوہات ہیں لیکن ان میں سب سے اہم مسلمانوں کا وہ حسن اخلاق تھا جس سے متاثر ہوکر یہاں کی اکثریت نے اسلام قبول کیا۔ آج بھی اگر مسلمان اسلام کا عملی نمونہ پیش کریں تو بادسموم کی یہ فضائیں ختم ہوسکتی ہیں اور لوگ اسلام کی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ مسلمان دعوت دین کے فرض منصبی کو نظرانداز نہ کریں بلکہ ہر حال میں اس فریضہ کو انجام دینے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہدسابق اسوسی ایٹ پروفیسر سیاسیات نے جامع مسجد عالیہ گن فاؤنڈری کے کانفرنس ہال میں تاریخ اسلام کی 988 ویں نشست سے بعنوان ’’ ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ‘‘ پر مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تاریخ کے ہر دور میں اسلام کی تبلیغ کا کام ہوتا رہا۔ سرزمین ہند میں اسلام کی آمد عرب تاجروں کے ذریعہ ہوئی۔ ملا بار کے ساحل پر مسلمان تاجروں کے قافلے آتے اور وہ اتنی دیانتداری کے ساتھ تجارت کرتے کہ لوگ ان کی ایمانداری سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیتے۔ صوفیاء کرام نے ہندوستان میں دعوت دین کا جو عظیم فریضہ انجام دیا اسے تاریخ میں سنہرے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ حضرات صوفیاء کرام کی دعوت کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ ان کے پاس جہاں روحانیت تھی وہیں ان کے اخلاق کی پاکیزگی، زاہدانہ زندگی، ان میں ایمان و یقین کی قوت، خلق خدا سے ہمدردی، بلاتفریق مذہب و ملت سارے انسانوں سے محبت اور انسانیت کا احترام ان کی تعلیمات کے اہم عناصر تھے۔ مجدددین اسلام کی جدوجہد نے بھی ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ میں کلیدی رول ادا کیا۔ خاص طور پر برطانوی دور حکومت میں جب انگریز اسلام اور مسلمانوں کے حریف بن گئے تھے، ان مجددین نے اسلام کی صداقت کو باقی و برقرار رکھنے کیلئے بے شمار قربانیاں دیں۔ بعد کے دور میں اسلامی تحریکوں نے ہندوستان میں اعلائے کلمۃ الحق کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو برادران وطن میں عام کیا۔ آج بھی ہندوستان میں دعوت دین کا کام ہورہا ہے لیکن اس میں مزید پیشرفت کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہر مسلمان اسلام کی تبلیغ میں اپنا حصہ ادا کرے۔ یہ ایک فرض منصبی ہے جس کو ادا نہ کرنے سے آج مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ حافظ تنویر عالم نے قر￿ت کلام پاک پیش کی۔ جناب محمد شمس الدین نے ابتدائی کلمات ادا کئے۔