ہندوستان میں حکومت مخالف آوازوں کو دبانے طاقت کا بیجا استعمال

   

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شدید ردعمل ۔ دہلی میں طلباء پر مظالم کی تحقیقات و کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔21جولائی(سیاست نیوز) ہندوستان میں مخالف حکومت آواز کو دبانے اقدامات پر عالمی انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل ‘ نے شدید ردعمل ظاہر کرکے کہا کہ ہندوستان میں جواب دہی اور ذمہ داری کے متعلق سوالات پر ظلم ڈھائے جانے لگے ہیں۔ مسٹر آکار پٹیل ہندوستان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل بورڈ کے صدرنشین نے مسئلہ عالمی سطح پر اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند پر امن احتجاج کو کچلنے کی کوشش کے نام پر پولیس کے ذریعہ احتجاجیوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ انہو ںنے 20 جولائی کو دہلی کی سڑکو ں پر مظالم کے کا تذکرہ کرکے کہا کہ ’جنتر منتر‘ سے پارلیمنٹ کیلئے پر امن احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کو پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ذریعہ جس انداز میں نشانہ بنایا گیا وہ انتہائی دردناک ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جو رپورٹ جاری کی اس میں 20 جولائی کی ویڈیو اور تصاویر جس میں پولیس کے مظالم قیدہیں پیش کیاگیا اور کہاگیا کہ دہلی میں انٹرنیٹ خدمات کو بند کرکے نوجوانوں اور طلبہ کو نشانہ بنایا گیا ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں ان کاروائیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ایجنسیوں اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون نافذ کریں نہ کہ قانون کے دائرہ میں حاصل حق کے مطابق احتجاج کرنے والوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے ۔ کہاگیا ہے کہ عالمی انسانی حقوق اور دستور ہند میں عوام کو اپنی رائے ظاہر کرنے اور پر امن انداز میں احتجاج کرنے کا مکمل حق حاصل ہے لیکن دہلی میں نفاذ قانون کی ایجنسیوں نے قانون کے نفاذ کے نام پر عوامی آواز کو کچلنے کی کوشش کی ہے اور ان کوششوں کی مذمت کی جانی چاہئے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کارروائی کو قانون ‘ انسانی حقوق ‘ قانونی حیثیت سے تجاوز قرار دے کر دہلی پولیس کو مشورہ دیا کہ وہ فوری اس طرح کی حرکتوں اور مظالم کا سلسلہ روکے اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کرے۔ حکومت دہلی میں پولیس لاٹھی چارج ‘ آنسو گیس کا استعمال اور بے جا طاقت کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات ‘ پولیس اہلکاروں کی جانب سے احتجاجیوں پر پتھراؤ کی آزادانہ تحقیقات کروائے اور خاطیوں کو فوری معطل کرکے انہیں سزاء دی جائے۔3/k/b