وزیرستان خودکش حملہ کا ہندوستان پر الزام توجہ ہٹانے کی کوشش
نئی دہلی ۔29؍جون ( ایجنسیز)ہندوستانی وزارت خارجہ نے پاکستان کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کو یکسر خارج کر دیا ہے جس میں اس نے 28 جون کو وزیرستان میں ہوئے خودکش حملے کیلئے ہندوستان کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اس حملے میں پاکستان کے 13 فوجی مارے گئے تھے جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے۔ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ہم نے پاکستانی فوج کا سرکاری بیان دیکھا ہے جس میں ہندوستان پر وزیرستان حملے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ہم اس الزام کو پوری طرح سے مسترد کرتے ہیں اور اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ الزام صرف توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔دراصل ہفتہ کو پاکستان کے خیبر پختونخوا کے شمالی وزیرستان ضلع میں ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز اشیا سے بھری گاڑی فوج کے قافلے سے ٹکرا دی تھی۔ اس حملے میں 13 فوجیوں کی موت ہو گئی تھی جبکہ 10 زخمی ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ 19 دیگر لوگوں کو بھی چوٹیں آئی تھیں۔میڈیاکے مطابق اس حملے کی ذمہ داری حافظ گُل بہادر گروپ کی خودکش اکائی نے لی ہے جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے جڑا ایک گروپ ہے۔یہ حملہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بڑھتے تشدد کی ایک اور مثال ہے۔ اس حملے کو حال کے مہینوں میں شمالی وزیرستان میں سب سے شدید حملوں میں سے ایک بتایا جا رہا ہے۔ سال 2021 میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی آئی ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس سال اب تک خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 290 سے زیادہ لوگوں کی جان گئی ہے جن میں زیادہ تر سلامتی دستوں کے جوان شامل ہیں۔