ہندوستان نے 41 برس بعد گھڑ سواری میں گولڈ میڈل جیتا

   

ہانگژو۔ ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کے گھڑ سواری مقابلوں میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ڈریسج پری سینٹ جارجس میں چار دہائیوں کے وقفے کے بعد گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی جب سدیپتی ہجیلا، دیویاکرتی سنگھ، ہردے چیڈا اور انوش اگروالا کی چوکڑی نے جیت لیا۔ منگل کو یہاں ٹیم مقابلہ میں ہندوستان نے یہ سہنری کامیابی حاصل کی ۔ سدیپتی (چنسکی پر اوپر)، دیویاکرتی (اڈرینالین فیرفوڈ)، ہردے (کیمکسپرو ایمرالڈ) اور انوش (ایٹرو پر) کی ہندوستانی ٹیم نے 209.206 فیصد پوائنٹس اسکور کرکے میزبان چین سے آگے رہے، جس نے 204.882 اسکورکیا۔ چین نے 204.852 کے اسکور کے ساتھ برونز میڈل جیتا۔ یہ ایشیائی کھیلوں میں ٹیم ڈریسج ایونٹ میں ہندوستان کا دوسرا میڈل ہے جب جیتندرجیت سنگھ اہلووالیا، غلام محمد خان اور رگھوبیر سنگھ کی ٹیم نے برونز میڈل جیتا تھا جب اس کھیل نے نئی دہلی میں 1982 کے ایڈیشن میں آغازکیا تھا۔ ہندوستان کے تینوں گولڈ میڈل1982 کے ایشیائی کھیلوں میں انفرادی ایونٹ، ٹیم ایونٹ اور انفرادی ٹینٹ پیگنگ میں آئے، جو 1982 کے بعد سے کبھی منعقد نہیں ہوئے۔ ہانگژو سے پہلے ہندوستان نے ایشین گیمز میں 3 گولڈ، 3 سلور اور 6 برونز میڈل جیتے تھے۔2018 میں ہندوستان نے گھڑ سواری میں دو سلور میڈلس جیتے تھے، دونوں ایونٹنگ میں فواد مرزا کے ساتھ انفرادی مقابلے میں دوسرے نمبر پر آئے۔