ملک میں غیر محفوظ متصور ، دیگر ممالک کے ویزوں و سکونت پر حصول معلومات
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔13اپریل۔ملک بھر میں پائی جانے والی تناؤ کی صورتحال اور اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے متمول مسلم خاندانوں کو ایک اور ہجرت پر آمادہ کرلیا ہے! دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ملک کی کئی ریاستوں میں موجود مسلمانوں کے طبقہ امراء کی جانب سے خود کو ہندستان میں غیر محفوظ تصور کیا جانے لگا ہے اور وہ ہندستان سے دیگر ممالک کو ہجرت کرنے کے متعلق سنجیدہ اقدامات کرنے لگے ہیں۔ تعلیم یافتہ متمول خاندانو ںکی اولین ترجیح برطانیہ بنی ہوئی ہے جبکہ جن خاندانوں کے نوجوان امریکہ یا آسٹریلیاء میں ہیں وہ ان ممالک کو روانہ ہونے کے متعلق غور کر رہے ہیں ۔ ایسے مسلم خاندان جو تعلیم یافتہ ہیں اور تجارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں وہ کینیڈا میں موجود مواقعوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے کینیڈا میں سکونت اختیار کرنے کے متعلق جائزہ لے رہے ہیں۔ مسلمانو ںکے کئی خاندان ترکی منتقل ہونے اور سرمایہ کاری کے ذریعہ شہریت حاصل کرنے کے متعلق بھی غور کرنے لگے ہیں بلکہ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کئی خاندانوں کی جانب سے ترکی میں سرمایہ کاری شروع کی جاچکی ہے۔ اسی طرح ایسے افراد جو دبئی یا خلیجی ممالک سے کاروباری تعلق رکھتے ہیں وہ طویل مدتی رہائشی ویزوں کے حصول اور خلیجی ممالک میں جائیدادوں کی خریدی میں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی کئی سرکردہ شخصیات و خاندانوں کی جانب سے برطانیہ ‘ امریکہ ‘ آسٹریلیاء‘ ترکی ‘ دبئی ‘ قطر کے علاوہ دیگر مقامات کو منتقل ہونے کے اقدامات کئے جا نے لگے ہیں ۔ اپنی تمام جائیدادوں کو فروخت کرتے ہوئے کسی اور ملک کو منتقل ہونے کا فیصلہ کرنے والے ایک خاندان کے ذمہ دار نے دریافت کرنے پر بتایا کہ وہ موجودہ حالات کے سبب ہجرت نہیں کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے سال 2013 میں ہی ہجرت کا ذہن بنا لیا تھا لیکن اب یہ عمل مکمل ہونے جا رہا ہے ۔برطانیہ منتقل ہونے کے اقدامات مکمل کرنے والے ایک خاندان کے فرد نے بتایا کہ جس طرح کے حالات پیدا ہورہے ہیں وہ آئندہ نسل کے لئے بہتر نہیں ہیں اور اپنی نسلوں کو نفرت سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں ایک باشعور معاشرہ کا حصہ بنایا جائے ۔ ترکی قونصل خانہ سے قریبی روابط رکھنے والے چند گروپس کے مطابق 80لاکھ تا1.5کروڑ کے سرمایہ سے ترکی کے سرکردہ شہروں میں جائیدادوں کے حصول کے ذریعہ شہری کی طرح اختیارات حاصل کرنے کے موقع سے کئی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور سرمایہ کاری کے ذریعہ شہریت کے حصول کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ ترکی قونصل خانہ اور ترکی کے امور کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہوئے قانونی کاروائی اور شہریت کے امور کی تکمیل کی ذمہ داری لینے والی ایجنسیوں کا کہناہے کہ ملک بھر سے یومیہ کئی درخواستیں وصول ہونے لگی ہیں اور لوگ اپنی جائیدادوں کو فروخت کرتے ہوئے ترکی کی شہریت حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح جن لوگوں کے بچے امریکہ ‘ کینیڈا‘ برطانیہ ‘ آسٹریلیاء ‘ نیوزی لینڈ کے علاوہ دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ بھی اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کیلئے ہجرت کے نام پر منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہجرت کے مقدس نام پر فرار کی زندگی گذارنے کو ترجیح دینے کی کوشش کر نے والے ان خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ اگر نوشتۂ دیوار پڑھنے کے باوجود بھی اقدام نہیں کیاجاتا ہے تو وہ درست نہیں ہے ۔ ملک کے موجودہ حالات کے سبب جو لوگ دوسرے ممالک کو منتقل ہونے کی منصوبہ بندی و اقدامات کر رہے ہیں ان میں صرف متمول مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہی نہیں ہیں بلکہ ایسے تجارتی خاندان بھی ہیں جو کہ تجارتی حالات کی ابتری سے پریشان ہونے لگے ہیں۔ صنعتی سرگرمیوںکا حصہ مسلمانوں کی تعداد انتہائی کم ہے لیکن اب صنعتی اداروں سے وابستہ مسلمانوں کی جانب سے بھی ترک وطن کے متعلق غور کرتے ہوئے دیگر ممالک کو اپنے منصوبوں اور سرمایہ کاری سے آگاہ کرتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ وہ اپنی صنعتیں ان ممالک میں شروع کرنے کے لئے تیار ہیں جہاں ان کی طلب ہے۔ ہندستانی شہریوں کو دنیا کے دیگر ممالک میں مستقل سکونت فراہم کرنے میں مدد کرنے والی ایک ایجنسی کے ذمہ دار نے بتایا کہ سال 2019کے بعد سے ترک وطن کرتے ہوئے دیگر ممالک کی شہریت اختیار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن سال 2020اور 2021 کے دوران طویل مدتی لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کی تحدیدات کے سبب منتقلی کے امور اور سفر میں ہونے والی مشکلات کے باعث یہ ممکن نہیں ہوسکا ہے لیکن اب جبکہ سفری تحدیدات مکمل طور پر برخواست ہوچکی ہیں اور مسافرین آسانی کے ساتھ سفر کرنے لگے ہیں تو ایسی صورت میں 2019 سے شروع ہونے والی کاروائیوں کی تکمیل کے سبب ترک وطن کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ نظر آسکتا ہے جبکہ ان امور کے متعلق معلومات حاصل کرنے والوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہونے لگا ہے۔