اجتماعی دعاؤں پر زور، ملک کی سرکردہ شخصیتوں کی اپیل
حیدرآباد۔/28 اپریل، ( پریس نوٹ) جمعۃ الوداع کے موقع پر مسلمان ملک کی موجودہ صورتحال، دہلی میں جہانگیر پوری کالونی ، کھر گاؤ، مدھیہ پردیش، گجرات، اتر پردیش، کرناٹک کے مظلوم مسلمانوں کیلئے خصوصی دعا کریں۔ نماز جمعہ کے خطبہ یا پھر نماز کے بعد اجتماعی دعا کریں۔ مولانا توقیر رضا خاں بریلی شریف ، مولانا ابو طالب رحمانی رکن مسلم پرسنل لا بورڈ ( کولکتہ ) مولانا سید سرور چشتی درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ اجمیر شریف ، جناب عامر علی خاں روز نامہ سیاست، جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان و شرعی فیصلہ بورڈ، جناب عبدالرحمن آئی پی ایس مستعفی ممبئی، جناب یونس موہانی نبیرہ حضرت مولانا لکھنوی، ڈاکٹر سید نذرعباس علی گڑھ ، جناب محمد ادیب سابق ایم پی، جناب بدر کاظمی دیوبند کے علاوہ کئی مساجد کے خطیب، علماء سجادگان نے کہا کہ ظلم و زیادتی کے اس ماحول میں جہاں مظلوم اور غریب مسلمانوں کے مکان بلڈوزوروں سے حکومت اُجاڑ رہی ہے ۔ رمضان ، روزہ داروں کا بھی خیال نہیں کیا جارہا ہے ۔ کھر گاؤں میں اس ظلم کی وجہ سے مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ معصوم بلکتے بچے ، خواتین رو رہی ہیں۔ حکومتی سطح کا یہ ظلم ایک سیکولر اور دستوری ملک کے شہری کی حیثیت سے 25 کروڑ مسلمان برداشت نہیں کریں گے۔ مساجد کو بھی بلڈوزر سے نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ جہاں مسلمانوں کے گھر اور عبادت گاہیں حکومت اور اقتدار کے نشہ میں توڑی جارہی ہوں وہاں ہم خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے۔ ظلم کے خلاف پوری قوت سے آواز بلند کرنا چاہیئے۔ ہمارے ملک کی تہذیب ہے کہ ہم اپنے ملک کے تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔ مسلمان ہندوؤں کا اور ہندو مسلمانوں کا ، سکھ ، کرسچن ، بدھ سب ملکر رہتے ہیں۔ انشاء اللہ رمضان کے بعد لائحہ عمل پرغور ہوگا۔ تلنگانہ، کرناٹک، آندھرا پردیش سے ملی اطلاعات کے مطابق شہروں اور دیہاتوں میں تاحال 900 مساجد کے ائمہ نے اس مہم سے جڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اجمیر، بریلی شریف، دہلی، لکھنو، دیوبند، کلکتہ ایسٹ، مہاراشٹرا کے بے شمار مساجد کے علماء و ائمہ نے مظلوم مسلمانوں کیلئے بارگاہ خداوندی میں مقدمہ کو پیش کرنے اور امت کو بیدار کرنے کی اطلاع ان ریاستوں کے ذمہ داروں کو دی ہے۔ مسلمان جمعۃ الوداع کو مسلمانوں کی مظلومیت کیلئے اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کریں۔ صرف دعا کریں رمضان کے بعد لائحہ عمل پر بات ہوگی۔