حالیہ عرصہ میں 10 وار ہیڈس کا اضافہ ۔ پاکستان ‘ اسرائیل و شمالی کوریا کو پیچھے چھوڑ دیا
نئی دہلی 9 جون ( ایجنسیز ) ہندوستان کے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور اب یہ تعداد 190 تک جا پہونچی ہے ۔ پہلے ہندوستان کے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تعداد 180 تک تھی ۔ جملہ ہتھیاروں کی تعداد کے معاملے میں پاکستان ‘ شمالی کوریا اور اسرائیل ہندوستان سے پیچھے ہوگئے ہیں۔ اسٹاکہوم کے انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں دستیاب ڈیٹا میں یہ انکشاف ہوا ہے ۔ بالکل پہلی مرتبہ ایک اہم پالیسی فیصلے میں ہندوستان نے 12 نیوکلئیر وار ہیڈس کو امن کے دوران بھی متعین کر رکھا ہے ۔ پہلے ہندوستان کی پالیسی یہ رہی تھی کہ وہ اپنے نیوکلئیر وارہیڈس کو ڈیلیوری سسٹم جیسے بیالسٹک میزائیلس وغیرہ سے علیحدہ ذخیرہ کرتا تھا ۔ ڈیٹا میں کہا گیا ہے کہ فی الحال ہندوستان کے 12 نیوکلئیر وارہیڈس ہیں جو متعین کئے گئے ہیں جبکہ 178 وار ہیڈس ہیںجن کا ذخیرہ کیا گیا ہے ۔ اس طرح جاریہ سال جنوری میں ہندوستان کے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تعداد جملہ 190 تک جا پہونچی ہے ۔اس اعتبار سے ہندوستان جملہ ہتھیاروں کے معاملے میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ چکا ہے ۔ پاکستان کے پاس جملہ 170 وارہیڈس کی موجودگی کی اطلاع ہے جبکہ چین اس معاملے میں کافی آگے ہے اور اس کے پاس جملہ 620 وارہیڈس موجود ہیں۔ نیوکلئیر وارہیڈس کے معاملے میں امریکہ اور روس دوسروں سے کافی آگے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ دونوں ممالک کے بعد دنیا کے جملہ نیوکئیر ہتھیاروں کی اکثریت موجود ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ روس اس معاملے میں سب سے آگے ہے اور اس کے پاس جملہ 5,420 نیوکلئیر وار ہیڈس ہے جبکہ اس کے ذخیرہ میںجملہ 4,400 و ارہیڈس دستیاب ہیں۔ اس نے جملہ 1,796 وارہیڈس کو متعین کیا ہوا ہے ۔ امریکہ کے پاس 5.042 وارہیڈس ہیں جن میں 3,700 کا ذخیرہ ہے اور اس نے جملہ 1,770 وار ہیڈس متعین کئے ہوئے ہیں۔فرانس کے پاس جملہ 370 وارہیڈس موجود ہیں ‘ برطانیہ جملہ 225 نیوکلئیر وار ہیڈس رکھتا ہے ۔ چین نے اس معاملہ میں اپنے ہتھیاروں کی تعداد میں حالیہ عرصہ میں اضافہ کیا ہے اور اس کے وار ہیڈس کی تعداد 620 بتائی گئی ہے ۔ اسی طرح شمالی کوریا اور اسرائیل کے پاس بھی وارہیڈس موجود ہیں۔ اسرائیل کے پاس جملہ 90 اور شمالی کوریا کے پاس جملہ 60 نیوکلئیر وارہیڈس موجود ہیں۔