پروفیسر اپوروانند
تویشا شرما، نکی بھٹی اور منیشا یہ اُن تین نوجوان خواتین کے نام ہیں جنھیں صرف اِس لئے قتل کیا گیا کیوں کہ اُن کی شادیاں ہندو خاندانوں میں ہوئی تھیں، وہ خود بھی ہندو تھیں۔ میں تو یہ لکھتا ہوں کہ ان کے قتل ان کی موت کی وجہ شادی ہی تھی کیوں کہ اگر ان خواتین کی شادیاں نہ ہوتیں تو غالب امکان تھا کہ وہ آج بقید حیات ہوتیں۔ ان کی شادیاں ہی ان کی موت کی وجوہات بن گئیں اور میں صرف ’’خواتین کی بجائے ہندو خواتین اس لئے لکھ رہا ہوں کہ اگر ان کی شادی ہندو گھرانوں میں نہ ہوئی ہوتیں تو شائد ان کے بقید حیات رہنے کے زیادہ امکانات پائے جاتے۔ یہ تحریر کرتے ہوئے مجھے اندازہ ہے کہ بہت سے قارئین مجھ پر زیادہ سادہ انداز میں مسئلہ کو پیش کرنے کا الزام عائد کریں گے، کچھ لوگ یہ ضرور کہیں گے کہ ہندوؤں کے خلاف کسی خاص نفرت یا دشمنی و عداوت کی وجہ سے یا جیسا کہ وہ کہتے ہیں میری خود سے نفرت کے باعث میں ان مقتول خواتین اور ان کے خاندانوں کی ہندو شناخت پر ضرورت سے زیادہ زور دے رہا ہوں لیکن ایسا کرنے کی ایک وجہ ہے۔ گزشتہ بارہ تیرہ برسوں میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے قائدین کسی نہ کسی طرح ہندو معاشرہ میں یہ کہتے ہوئے آئے ہیں کہ اپنی لڑکیوں اور خواتین کے تحفظ کے خاطر انھیں اپنا محافظ اور قائد تسلیم کیا جائے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہندو لڑکیاں مسلمانوں سے خطرہ میں ہیں۔ مختلف نعروں کے ذریعہ ہندوؤں کو مسلسل یہ ترغیب دیتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں، بہنوں اور بہوؤں کو مسلمانوں سے بچائیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عام ہندوؤں کو اس پروپگنڈہ پر یقین دلایا گیا کہ اگر کوئی ہندو لڑکی کسی مسلمان مرد سے تعلق قائم کرے یا اس سے شادی کرے تو اس کے خلاف تشدد ناگزیر ہے لیکن اعداد و شمار ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ ہندو خواتین ہندو مردوں سے شادی کے بعد قتل کردی جاتی ہیں یا انھیں مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تاہم میڈیا کے لئے تویشا شرما، نکی بھٹی اور منیشا کے قتل یا اموات ایسی کہانیاں نہیں ہیں جو سنسنی پیدا کرے یا مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دیں۔ اس لئے اُن پر بہت کم بحث ہوتی ہے۔ یہ واقعات خود احتسابی پر مجبور کرتے ہیں اور خود احتسابی ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ اپنی مشکلات اور پریشانیوں کا الزام دوسروں پر عائد کرنے میں ہمیشہ ایک طرح کی تسکین ملتی ہے جبکہ اپنے اندر جھانکنا اور اپنا جائزہ لینا محاسبہ کرنا ناخوشگوار محسوس ہوتا ہے۔ تویشا ، نکی اور منیشا صرف تین نام ہیں ان زائداز 6000 خواتین میں سے جو ہر سال اپنے شوہروں کے گھروں میں جہیز کی مانگ، بیٹی پیدا کرنے، بیٹا یا اولاد نرینہ پیدا نہ کرنے یا پھر گھریلو تشدد کی کسی نہ کسی دوسری شکل کے نتیجہ میں موت کی بھینٹ چڑھادی جاتی ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہندوستان میں ہر روز مذکورہ بہانوں سے تقریباً 16 خواتین کا قتل کردیا جاتا ہے۔ ماہرین نے بار بار ہمیں اس بات سے خبردار کیا ہے کہ یہ اعداد تو ہمارے ملک میں گھریلو تشدد کے جو واقعات پیش آتے ہیں اس کا ایک معمولی حصہ ہیں کیوں کہ خواتین پر مظالم کے ہزاروں واقعات منظر عام پر ہی نہیں لائے جاتے یا اُن کی شکایات ہی نہیں کی جاتی۔ اکثر ہمارے معاشرہ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لڑکی کی پیدائش کا ذمہ دار خاتون کو قرار دیا جاتا ہے حالانکہ یہ قدرت کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا عمل دخل نہیں۔ ایک طرف معاشرہ میں خواتین کا مختلف بہانوں سے قتل کیا جاتا ہے، دوسری طرف اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ پولیس اکثر شکایات درج کرنے سے انکار کردیتی ہے حالانکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ مقدمات درج کرے۔مظلوم خواتین کو انصاف دلائے، پولیس کیس درج کرنے کے بجائے ایسے سنگین واقعات کو گھریلو معاملہ قرار دے کر مسترد کردیتی ہے۔ خود تویشا کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کے لئے ایف آئی آر درج کروانا کس قدر مشکل رہا۔ پولیس شکایت درج کرنے سے کتراتی رہی۔ ان کے خاندان کو صرف ایف آئی آر درج کروانے کافی تگ و دو کرنا پڑا۔ خواتین کے قتل کے واقعات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے 85 تا 88 فیصد خواتین کے قتل ہندو خاندانوں میں ہوئے اس کے برعکس بڑی مشکل سے خواتین کے قتل کے 11 تا 12 فیصد واقعات مسلم گھرانوں میں ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں کوئی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ اس تقسیم کا راست تعلق ہندوستان کی آبادی سے ہے۔ چونکہ ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے اس لئے خواتین کے قتل کے واقعات ہندو گھرانوں میں زیادہ پیش آتے ہیں۔ باالفاظ دیگر قتل کی جانے والی خواتین میں ہندو خواتین کی بڑی تعداد اس دعوے کو کمزور کردیتی ہے کہ ہندو معاشرہ میں خواتین کی حالت مسلم برادریوں کے مقابلہ میں کہیں بہتر ہے۔ ہمارے ملک کے سرکاری ادارے عام طور پر ایسے اعداد و شمار کو مذہب کی بنیاد پر درجہ بندی نہیں کرتے اور ہاں زیادہ درست بات یہ ہوگی کہ جہیز کا نظام تاریخی طور پر ہندو معاشرہ میں کہیں زیادہ عام تھا اور ہندو معاشرے کی ثقافتی بالادستی کے باعث یہ سماجی بُرائی رفتہ رفتہ دیگر مذہبی برادریوں میں بھی پھیل گئی۔ مختلف اسٹڈیز سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ ہندوؤں میں جہیز کا رواج بالخصوص اعلیٰ ذاتوں میں سب سے زیادہ تھا جہاں سے نقل یا تقلید کے ذریعہ یہ دوسرے سماجی طبقات میں بھی پھیل گیا۔ ہندوتوا کے حامی قائدین خود کو ہندو بیٹیوں کو شوہروں یا سسرالی رشتہ داروں کے ظلم سے بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھاتے۔ جہاں تک جہیز کا سوال ہے ذاتوں اور برادریوں میں جہیز کی لعنت گہرائی تک سرائیت کرگئی ہے لیکن یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ خواتین کے خلاف تشدد اور یہاں تک کہ جہیز اور اس سے متعلق مسائل پر ان کا قتل اکثر و بیشتر تعلیم یافتہ اور بظاہر معزز خاندانوں میں زیادہ عام ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میں خاص طور پر تعلیم یافتہ خاندانوں میں جہیز کی لعنت سب سے زیادہ پائی جاتی ہے اور ہر سطح پر اس بات کے دعوے کئے جاتے ہیں کہ جہیز جیسی سماجی لعنت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے ، اصلاحی و انقلابی اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج بھی ہمارے ملک کے طول و ارض میں جہیز کی لعنت پائی جاتی ہے اور ہر دن جیسا کہ راقم نے سطور بالا میں لکھا ہے درجنوں خواتین کا قتل کردیا جاتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ جہیز کی لعنت کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں لیکن جب عمل کی بات آتی ہے تو عملی اقدامات سے گریز کیا جاتا ہے۔ آج بڑی مشکل سے کوئی اس کے بارے میں بات کرتا ہے۔ چند سال قبل میں نے اپنے ایک دوست کی بیٹی سے دریافت کیا تھا کہ سیول سرویس اور پولیس سرویس میں داخل ہونے والے آفیسرس کو کتنا جہیز ملتا ہے جس پر اس بیٹی نے بتایا کہ 20 یا 25 کروڑ کے آس پاس مالیت کا جہیز ان آفیسرس کو حاصل ہوتا ہے۔ اس موضوع پر کسی قسم کے سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں اور نہ ہی سنجیدگی سے کوئی اس بارے میں کسی اسٹڈی کا اہتمام کرتا ہے مگر ہر کوئی جانتا ہے کہ جہیز عام ہے۔ ایسے میں کوئی بھی ان آفیسروں کے رویہ خاص طور پر جہیز کے لئے خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے والے کیس میں ان کے رویہ کا تصور کرسکتا ہے کیوں کہ ان لوگوں نے بھاری بھر کم جہیز لے کر شادی کی ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں جبکہ حصول علم عام ہوگیا ہے، شادی بیاہ میں دلہن کے والدین یا سرپرستوں کی جانب سے دیئے گئے زیورات اور قیمتی تحائف کی سر عام نمائش کی جارہی ہے اس کے باوجود کیا معاشرہ اسے بُرا سمجھ رہا ہے۔ اس کے تھوڑے سے بھی شواہد نہیں ملتے۔ ایک سوشلسٹ لیڈر نے ایک انتخابی مہم کے دوران پیش آئے دلچسپ واقعہ کا ذکر کیا اور بتایا کہ کیسے ایک شادی کی تو تقریب میں اس نے زیورات اور جہیز کی نمائش کا مشاہدہ کیا۔ حد تو یہ ہوگئی تھی کہ لاؤڈ اسپیکر پر زیورات کی تفصیلات بتائی جارہی تھی۔ کیا کوئی ہے جو ہندو معاشرہ میں جہیز کے نام پر خواتین کے قتل کو روک سکے۔