ہند۔امریکہ تجارتی معاہدہ کیخلاف کسانوں کا جنتر منتر پر احتجاج

   

معاہدہ ملک کے زرعی شعبے کیلئے سنگین خطرہ ، 15اگست سے پیدل مارچ کی وارننگ

نئی دہلی، 23 جون (یو این آئی) مجوزہ ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف منگل کو سنیکت کسان مورچہ (غیر سیاسی) کے بینر تلے سینکڑوں کسانوں نے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کسانوں نے ہاتھوں میں جھنڈے لیکر معاہدے کے خلاف نعرے لگائے ۔ کسان قائدین نے الزام لگایا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ ملک کے زرعی شعبے کیلئے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ہندوستان کے دورے پر آئے ہیں، جس سے کسانوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کسان قائدین نے کہا کہ فروری میں جس تجارتی فریم ورک پر دستخط کیے گئے تھے اسی بنیاد پر معاہدہ کی ابتدائی دستاویزات تیار کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس فریم ورک میں امریکہ سے آنے والی زرعی اور غذائی مصنوعات پر امپورٹ ڈیوٹی (درآمدی ٹیکس) کم یا ختم کرنے کی تجویز شامل ہے ۔ کسانوں کا استدلال ہیکہ اگر امریکی زرعی مصنوعات بغیر کسی معقول ڈیوٹی کے ہندوستانی مارکیٹ میں داخل ہوتی ہیں، تو وہ کم قیمت کی وجہ سے گھریلو کسانوں کیلئے مقابلے کو مشکل بنا دیں گی، جس سے ہندوستانی زراعت، ڈیری اور پولٹری کے شعبے پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔یہاں جاری کردہ ریلیز کے مطابق کسان رہنما جگجیت سنگھ ڈلیوال نے وارننگ دی کہ اگر مرکزی حکومت زراعت، ڈیری اور پولٹری کے شعبوں کو مجوزہ تجارتی معاہدے سے باہر نہیں رکھتی ہے تو کسان بڑے پیمانے پر تحریک شروع کریں گے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 15اگست سے داتا سنگھ والا۔کھنوری مورچے سے ایک پیدل مارچ شروع کیا جائیگا، جو 25اگست کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر کسانوں کی ایک بڑی ریلی کے ساتھ ختم ہوگا۔ یہ مارچ اس جگہ سے شروع ہوگا جہاں کسان شبھ کرن سنگھ کی موت ہوئی تھی۔ ڈلیوال نے بتایا کہ تحریک کی حکمت عملی اور پیدل مارچ کا خاکہ طے کرنے کیلئے 20جولائی کو مدھیہ پردیش میں سنیکت کسان مورچہ (غیر سیاسی) کی قومی میٹنگ منعقد کی جائے گی۔ اس احتجاجی مظاہرے میں ستنام سنگھ بہرو، پی آر پانڈیان، جتیندر شرما، راجیندر سنگھ خالصہ، ہرش دیپ گل، رام پال شرما، بلدیو سنگھ سرسا سمیت مختلف ریاستوں کے کسان رہنما موجود تھے ۔ پروگرام کی نظامت ابھیمنیو کوہاڑ نے کی۔ کسان رہنماؤں نے کہا کہ وہ زرعی مفادات کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی ایسے معاہدے کی مخالفت کریں گے جس سے ہندوستانی کسانوں کے روزگار کے متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔