یعقوب میمن کی قبر کو ’’مزار‘‘ بنانے کیلئے بی جے پی ذمہ دار

   

این سی پی قائد جینت پاٹل کا الزام، شردپوار، ادھوٹھاکرے اور راہول گاندھی سے معذرت خواہی کا مطالبہ

ممبئی ۔ 1993 ء میں ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے ملزم یعقوب میمن کی ممبئی کے میرین لائنز کے بڑا قبرستان میں واقع قبر کو ’’مزار‘‘ بنانے کے معاملہ نے نیا تنازعہ پیدا کردیا ہے۔ جمعہ کے روز این سی پی کے قائد جینت پاٹل نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میمن کی قبر کی تزئین کرتے ہوئے اسے مزار بنانے کی اجازت بی جے پی کے دور حکومت میں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہیکہ یعقوب میمن کی قبر کو مزار بنانے کی جس وقت اجازت دی گئی اس وقت نہ صرف مرکز میں بلکہ مہاراشٹرا میں بھی بی جے پی کی حکومت تھی۔ یاد رہے کہ 8 ستمبر کو یہ معاملہ سامنے آیا کہ بڑا قبرستان میں واقع یعقوب میمن کی قبر کی تزئین کرتے ہوئے اسے کسی پیر صاحب کی مزار کی طرح بنایا جارہا ہے۔ قبل ازیں مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے نے بھی کہا تھا کہ 1993ء کے سلسلہ وار بم دھماکوں کے ملزم یعقوب میمن کی قبر کو مزار بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے شنڈے نے کہا کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ میں نے اس سلسلہ میں ممبئی بلدیہ اور ممبئی پولیس کو مطلع کردیا ہے اور امید ہے کہ وزات داخلہ اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کرے گی۔ شنڈے نے اس سے پہلے بڑا قبرستان میں یعقوب میمن کی قبر کو مزار بنانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی انتباہ دیا تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے تحقیقات کرنے کا حکم بھی دیا تھا اور کہا تھا کہ تحقیقات کے بعد اگر کوئی خاطی پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ممبئی پولیس کو اس سلسلہ میں مناسب تحقیقات کے بعد رپورٹ داخل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل یعقوب میمن کی قبر پر ’’روشنیوں‘‘ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جسے ہٹا دیا گیا تھا جس پر مہاراشٹرا بی جے پی کے ایم ایل اے رام کدم نے سوال پوچھا تھا کہ کیا سابق وزیر اعلیٰ ادھوٹھاکرے کی یہی حب الوطنی ہے کہ وہ یعقوب میمن جیسے دیش دروہی کی قبر کو مزار بنانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ ادھوٹھاکرے کو اس معاملہ میں معذرت خواہی کرنی چاہئے کیونکہ قبر کو مزار بنانے کی اجازت اس وقت دی گئی تھی جب ٹھاکرے مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ تھے۔ یہی نہیں انہوں نے اس سلسلہ میں این سی پی قائد شردپوار اور کانگریس قائد راہول گاندھی سے بھی معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے۔ 1993ء سلسلہ وار ممبئی بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے اور میمن کے علاوہ مصطفیٰ ڈوسا اور ابوسالم کو بھی بم دھماکوں میں ماخوذ کیا گیا تھا جو انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی ایما پر کئے گئے تھے۔