ایتھنز : یونان میں گزشتہ روز پیش آنے والے ٹرین حادثے میں ہلاک والوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔یونان کے سرکاری ٹیلی ویژن ERT کی خبر میں بتایا گیا ہے کہ شمال میں ٹیمپی کے علاقے میں مسافر ٹرین اور مال بردار ٹرین کے تصادم کے نتیجے میں کچھ ویگنیں پٹری سے اتر گئیں اور چند ایک میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے اس حادثے میں 42 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔خبر میں بتایا گیا کہ 57 افراد جن میں سے 6 شدید زخمی تھے، کا علاج جاری ہے۔خبر میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے دوران لگنے والی آگ کے باعث تلاش اور امدادی کوششوں کے دوران ملبے سے نکالی گئی کچھ لاشوں کو پہچاننے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور لاپتہ ہونے والوں کے اہل خانہ نے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے دے دئیے۔یونانی صدر کترینا ساکیلاروپولو، وزیر اعظم کریاکوس میتچو تاکیس ، وزیر صحت تھانوس پلیورس، مرکزی اپوزیشن ریڈیکل لیفٹ الائنس کے رہنما الیکسی سپراساور نائب وزیر دفاع نکوس ہردالیاس نے اس علاقے کا دورہ کیا جہاں حادثہ ہوا اور صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔یونان کی حکومت نے ملکی تاریخ کے سب سے مہلک ٹرین حادثے کے بعد تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔دارالحکومت ایتھنز میں گزشتہ روز ٹرین حادثے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔