یونیفارم سیول کوڈ پر امیت شاہ کا اعلان ، این ڈی اے میں ہلچل

   

سرسوتی داس گپتا
ملک میں پھر میں یکساں سیول کوڈ کے چرچے عام ہوگئے ہیں ۔اس کی وجہ وزیر داخلہ امیت شاہ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ بی جے پی و اتحادی جماعتوں ( این ڈی اے ) کی زیر اقتدار 21ریاستوں میں 2029ء تک یونیفارم سیول کوڈ ( یکساں سیول کوڈ) نافذ کیا جائے گا ۔ ( اس سے ملک اور عوام کا کیا فائدہ ہوگا ، یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب امیت شاہ ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں ۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ بی جے پی اور مودی۔ شاہ جوڑی یکساں سیول کوڈ کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں ) ۔ تلگو دیشم نے کہا کہ حمایت کرنا ایک آپشن ہے جبکہ بی جے پی کے اتحادیوں کا موقف ہے کہ مسودہ سامنے آنے کے بعد ہی موقف واضح کیا جائے گا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 2024ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو اپنے طور پر واضح اکثریت حاصل نہ ہوسکی تھی ، حالانکہ وزیراعظم نریندر مودی سے لیکر بی جے پی قائدین اب کی بار 400 پار کا نعرہ بلند کررہے تھے لیکن 400نشستوں کا حصول تو دور کی بات ہے بی جے پی 272 کے جادوئی عدد تک بھی نہیں پہنچ سکی ،240 تک محدود ہوکر رہ گئی ۔ نتیجہ میں بی جے پی کو چندرا بابو نائیڈو کی تلگودیشم اور نتیش کمار کی جے ڈی یو پر انحصار کرنا پڑا ۔ آپ کو بتادیں کہ لوک سبھا میںجے ڈی یوکے 12اور تلگو دیشم کے 16یعنی جملہ 28ارکان ہیں ، جہاں تک بہار اور آندھراپردیش کا سوال ہے یہ ایسی ریاستیں ہیںجہاں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے اور مسلم رائے دہندے کسی بھی پارٹی کو ہرا سکتے ہیں اور جتا بھی سکتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اپنی اپنی ریاستوں میں مسلمانوں کے بادشاہ گر موقف کو دیکھتے ہوئے تلگودیشم اور جے ڈی یو نے یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے سے متعلق امیت شاہ کے بیان یا بی جے پی کے منصوبوں کی کھل کر تائید و حمایت نہیں کی ۔
تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ ایل کرشنا دیورایالو نے جو لوک سبھا میں پارٹی کے فلور لیڈرہیں، دی وائر سے بات چیت میں کہا کہ امیت شاہ کے بیان یا یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی حمایت کرنا ایک آپشن ہے لیکن فی الحال اس ضمن میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ، ہاں اگر ہمیں محسوس ہوا کہ اس معاملہ کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تو ہم یقیناً اس کا جائزہ لیں گے اور کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تمام فریقین سے مشاورت کریں گے ۔ 2024ء کے لوک سبھا انتخابات کے بعد این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل تلگودیشم یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتی رہیت ھی ۔ جولائی 2023 میں آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے کہا تھا کہ یکساں سیول کوڈ کے معاملہ پر ان کی پارٹی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہے گی ۔
بہار میں بھی بی جے پی کو اپنے اتحادی جماعتوں کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا ہے ۔ جے ڈی یو نے پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ و رکن راجیہ سبھا سنجے کمار جھا کی امیت شاہ سے ملاقات سے قبل یکساں سیول کوڈ کی اس تجویز کی کھل کر تائید و حمایت کرنے سے گریز کیا ہے ۔ جے ڈی یو کے ترجمان راجیو رنجن پرساد کے مطابق پارٹی کے قائم مقام صدر یونیفارم سیول کوڈ معاملہ پر وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کریں گے ۔ آپ کو یاد دلادیں کہ اس سے قبل سال 2017 میں بہار کے سابق چیف منسٹر نتیش کمار نے لاکمیشن کو ایک مکتوب لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اتفاق رائے کے بغیر UCC مختلف مذہبی گروپوں خصوصاً اقلیتوں کے درمیان سماجی انتشہار پیدا کرے گا اور آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی ضمانت پر اعتماد یا بھروسہ کو کمزور کرے گا ۔ بہار میں این ڈی اے کی ایک اور اتحادی جماعت لوک جن شکتی پارٹی جس کے لوک سبھا میں 5 رکان ہیں اس نے بھی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان کی کھل کر حمایت کرنے سے گریز کیا ہے ۔ ایل جے پی کے سربراہ اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ پارٹی مساوات اور تنوع کیلئے پُرعزم ہے اور مسودہ عوام کے سامنے آنے کے بعد اس پر بات چیت ہوگی اور غور کیا جائے گا ۔
انہوں نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ہماری حکومت نے مسلم خواتین کیلئے مساویانہ حقوق کو یقینی بنانے طلاق ثلاثہ منسوخ کیا ، ہم نے خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر کشمیر کو خصوصی موقف عطا کرنے والی دفعہ 370 کی تنسیخ عمل میں لائی ۔ امیت شاہ کے مطابق کشمیر ہندوستان کا جنرلانسفک ہے بعض ریاستوں نے یو سی سی متعارف کروایا اور ہم نے یہ طئے کر رکھا ہے کہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی زیرقیادت 21 ریاستوں میں 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے گا ۔ آپ کو بتادیں کہ اترکھنڈ ، آسام ، مدھیہ پردیش اورگجرات میں یو سی سی بل منظور کیا گیا ہے لیکن 2025 کے دوران اترکھنڈ میں ہی اس کا نفاذ عمل میں آیا ۔