یوپی میں عالم دین کا قتل ، مقامی مسلمانوں کا 5 گھنٹوں تک احتجاج

   

قاتلوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے اور ان کا انکاؤنٹر کرنے کا مطالبہ
لکھنؤ : اترپردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں ایک عالم دین کا نامعلوم افراد نے انتہائی بے دردی سے قتل کردیا۔ قتل کے واقعہ کے خلاف مقامی مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔ مقتول کا تعلق پرتاپ گڑھ ضلع کے صدر جمعیت العلماء سے بتایا گیا ہے اور وہ ضلع میں چند دینی مدارس بھی چلاتے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا کہ قتل کی وجہ رقمی لیں بتائی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پرتاپ گڑھ کے جیٹھواڑہ تعلقہ کے سون پور گاؤں کے مدرسہ کے ڈائرکٹر مولانا فاروق کو نامعلوم افراد نے گھر سے بلایا اور کلہاڑی اور ڈنڈوں سے حملہ کرکے ان کا قتل کردیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ گاؤں کے ایک شخص اور مولانا کے درمیان زمین کا سودا ہوا تھا۔ زمیندار نے زمین کسی اور کو بیچ دی اور مولانا رقم واپس کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ زمین کے مالک نے رقم واپس کرنے کے لیے مدرسہ کے ڈائرکٹر مولانا فاروق کو ان کے گھر آدمیوں کو بھیجا اور مولانا کو گھر سے بلایا گیا اور بات چیت کے دوران جھگڑا ہوا۔ حملہ آوروں نے مولانا پر کلہاڑی اور ڈنڈوں سے حملہ کیا اور حملہ آور نعش کو گھر کے سامنے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ مولانا کے قتل کی خبر گاوں میں پھیل گئی اور جلد ہی ایک ہجوم جمع ہوگیا اور مشتعل افراد نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی۔ اس دوران لوگوں نے پولیس کو نعش کو اٹھانے سے روک دیا اور حملہ آوروں کے گھر پر بلڈوزر چلانے اور ان کا انکاؤنٹر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے 5 گھنٹے تک نعش کو اٹھانے نہیں دیا۔ بعد ازاں ڈی ایم اور ایس پی کے سمجھانے پر گھر والے اور احتجاجی نعش کو اٹھانے پر راضی ہو گئے۔ ایس پی نے کہا کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔