یوکرین تنازعہ: پوٹن سے ملاقات کی تجویز بائیڈن نے قبول کر لی

,

   

مذاکرات روس کے یوکرین پر حملہ نہ کرنے سے مشروط‘24فروری کووزراء خارجہ کا اجلاس

پیرس:فرانس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کے تنازعہ پر مشروط ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا’ کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کے دفتر سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امریکہ اور روس کے صدر اس صورت میں ملاقات کریں گے جب ماسکو کی جانب سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ وہ یوکرین پر حملہ نہیں کرے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر نے دونوں عالمی رہنماوں کو یورپ میں استحکام اور سیکیورٹی کے لیے سمٹ کی تجویز پیش کی تھی جس پر دونوں جانب سے اتفاق کیا گیا ہے۔وائٹ ہاوس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر بائیڈن نے اصولی طور پر ملاقات کی دعوت قبول کی ہے لیکن یہ ملاقات اس وقت ہو گی جب روس یہ یقین دہانی کرادے کہ یوکرین پر حملہ نہیں ہو گا۔وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ “ہم ہمیشہ سفارت کاری کے لیے تیار رہتے ہیں اور اگر روس نے جنگ کے راستے کا انتخاب کیا تو ہم جواباً پابندیاں لگانے کے لیے بھی تیار ہیں۔” میڈیاکے مطابق روس کے صدارتی دفتر اور یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی کی جانب سے فرانسیسی صدر کی تجویز پر فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔فرانسیسی صدر اور وائٹ ہاوس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بائیڈن ۔پوٹن ملاقات کے دوران کن امور پر تبادلہ خیال ہو گا؟ اس حوالے سے 24 فروری کو امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کی طے شدہ ملاقات کے دوران بات چیت ہو گی۔یاد رہے کہ فرانس کی جانب سے بائیڈن اور پوٹن کی ملاقات کی تجویز ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب روس یوکرین کی سرحد کے ساتھ اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے اور مغربی ملکوں کی جانب سے مسلسل ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔تاہم ماسکو مسلسل ان خبروں کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔یوکرین تنازعہ پر صدر بائیڈن اور صدر پوٹن کے درمیان مجوزہ ملاقات میں یوکرین کا کیا کردار ہو گا اور اگر یوکرین کا اس حوالے سے کوئی کردار ہے بھی تو یہ واضح نہیں ہے۔بائیڈن انتظامیہ نے ایک میل میں کہا ہے کہ روسی صدر کے ساتھ ملاقات اس وقت تک مکمل خیالی ہے جب تک اس حوالے سے وقت اور اس کا طریقہ کار طے نہیں ہو جاتا۔امریکہ کے روس کے لیے سابق سفارت کار مائیکل مک فال کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ صدر بائیڈن اور پوٹن کے درمیان ملاقات ہو سکے گی۔انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اگر بائیڈن اور پوٹن کے درمیان ملاقات ہوتی ہے کہ انہیں یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی کو بھی مدعو کرنا چاہیے۔سیٹیلائٹ سے تصاویر لینے والی امریکی کمپنی ‘میکسر ‘کے مطابق یوکرین کی سرحد کے قریب تقریباً 15 کلو میٹر کے فاصلے میں روس نے اپنی فوج کی تعداد میں مزید اضافہ کیا ہے۔