یوکرین: مارشل لا کا مقصد یوکرینیوں کا مال لوٹناہے، اقوام متحدہ فیصلے کی مذمت کرے

   

نیویارک : یوکرین انتظامیہ نے، الحاق شدہ علاقوں دونیتسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریزیا میں، صدر پوتن کے مارشل لاء کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔یوکرین صدارتی آفس کے مشیر ‘میخائل پوڈولیاک’ نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صدر پوتن کا فیصلہ یوکرین میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکے گا۔پوڈولیاک نے کہا ہے کہ “روس کا الحاق کردہ علاقوں میں مارشل لاء نافذ کرنا، نئے سرے سے گروہ بندی کر کے ایک مختلف طریقے سے، یوکرینیوں کے مال کو لوٹنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ اس لْوٹ مار کو بطور ‘نام نہاد سرکاری حیثیت’ کے دیکھا جانا چاہیے”۔یوکرین سلامتی و دفاعی کونسل کے سربراہ اولیکسی ڈانیلوف نے بھی سوشل میڈیا پیج سے جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو پوتن کے فیصلے کی مذمت کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا ہے کہ پوتن کا الحاق کردہ علاقوں میں مارشل لاء کا فیصلہ، مقبوضہ علاقوں کی نسلی ساخت کو تبدیل کرنے کے لئے، یوکرینی آبادی کو اجتماعی شکل میں روس کے پسماندہ علاقوں کی طرف دھکیلنے کی تیاری ہے۔ یہ ایک جْرم ہے جس کی اقوام متحدہ کو اس کی مذمت کرنا چاہیے۔