یوکرین کے بعد امریکی صدر بائیڈن کی پولینڈ آمد

   

l صدر نے یوکرین سے وارسا تک ٹرین کے سفر کا لطف اٹھایا l یوکرین کیلئے مزید 460 ملین ڈالرس کا اعلان
l دونوں ممالک پولینڈ میں مستقل فوجی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کے خواہاں

وارسا: پولینڈ کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، پیر کی شام امریکی صدر جو بائیڈن یوکرین سے ٹرین کے ذریعے پولینڈ پہنچ گئے۔ کیف کے اچانک دورے کے بعد بائیڈن مقامی وقت کے مطابق تقریباً 20:30 بجے جنوب مشرقی شہر پرزیمیسل کے ٹرین اسٹیشن پر پہنچے۔ ذرائع نے بتایا کہ امریکی محکمہ دفاع نے پیر کو کہا تھا کہ امریکہ یوکرین کو 460 ملین ڈالر کی نئی سیکیورٹی امداد فراہم کرے گا۔ اس امداد میں ’’ہمارس‘‘ میزائل سسٹم کے ساتھ ساتھ جیولن اینٹی ٹینک میزائل سسٹم کیلئے گولہ بارود بھی شامل ہے۔پینٹگان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے یوکرین کی اہم حفاظتی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے امدادی پیکج مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیکیج میں HIMARS سسٹم کیلئے اضافی گولہ بارود اور امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ ہووٹزر بھی شامل ہیں جسے یوکرین استعمال کرتا ہے۔ اینٹی ٹینک سسٹم اور فضائی نگرانی کے ریڈار کے علاوہ اپنے ملک کی حفاظت کریں۔امریکی محکمہ خارجہ نے ایک الگ بیان میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے یوکرین کیلئے ملک کے توانائی کے نظام کو بحال کرنے کیلئے اضافی 10 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ جنگ کے آغاز کی پہلی برسی سے کچھ دن قبل کیف کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران بائیڈن نے پیر کو یوکرین کو ، چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے، مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔امریکی صدر اگلے دو دن پولینڈ میں گزارنے والے ہیں، جہاں امریکی فوجیوں کو مستقل طور پر تعینات کرنے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ صدر بائیڈن کا یہ دورہ یوکرین پر روسی حملے کے ایک برس مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن یوکرین پر روسی حملے کے ایک برس مکمل ہونے سے قبل دو روزہ دورے پر پیر کی شام کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا پہنچے۔ پولش ٹیلیویڑن نے بائیڈن کی ایئر فورس ون کی اپنے ایئر پورٹ پر لینڈنگ کو نشر بھی کیا۔اس سے قبل وہ پیر کے روز اچانک یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچے تھے اور وہاں چند گھنٹوں کے قیام کے بعد وہ وارسا کیلئے روانہ ہوئے۔ کیف میں انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی۔گزشتہ برس 24 فروری کو روسی حملے کے بعد امریکی صدر کا یوکرین کا یہ پہلا دورہ تھا۔ جنگ کے دوران ان کا دورہ کیف یوکرین کی حمایت کیلئے ان کا ایک مضبوط اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن کا اچانک دورہ کیف کافی حیران کن تھا، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس ماہ کے اوائل میں پولینڈ کے دو روزہ دورے کا اعلان کیا تھا۔ پولینڈ اپنی سرزمین پر مزید امریکی فوجیوں کی موجودگی کا خواہاں ہے۔اتوار کے روز پولینڈ کے وزیر اعظم میٹیوز موراویکی نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا، ”ہم صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ ان کی موجودگی کو مزید مستقل بنانے اور اس میں اضافہ کرنے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔”گزشتہ جون میں بائیڈن نے کہا تھا کہ روس کی دھمکیوں کے جواب میں امریکہ پولینڈ میں ایک نیا مستقل فوجی ہیڈکوارٹر قائم کرنا چاہتا ہے۔
بائیڈن اپنے دورے کے دوران پولینڈ کے صدر آندریج ڈوڈا اور اعلیٰ مرکزی یورپی حکام سے بھی ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔بائیڈن کے دورہ کیف کا سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پیشگی اعلان نہیں کیا گیا تھا، تاہم جانے سے عین قبل واشنگٹن نے ماسکو کو اس بارے میں آگاہ ضرور کر دیا تھا۔ یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے بائیڈن کا یہ پہلا دورہ تھا۔انہوں نے وہاں پہنچ کر کہا، ”جب دنیا یوکرین پر روس کے وحشیانہ حملے کی پہلی سالگرہ کی تیاری کر رہی ہے، میں آج صدر زیلنسکی سے ملاقات کرنے اور یوکرین کی جمہوریت، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کیلئے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرنے کیلئے کیف میں ہوں۔”وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن جلد ہی یوکرین کو مزید سازو سامان کی فراہمی کا اعلان کریں گے، جس میں توپ خانہ گولہ بارود، اینٹی آرمر سسٹم اور فضائی نگرانی کے ریڈار شامل ہیں۔