کمپالا۔ 7 اگست (ایجنسیز) یوگنڈہ کے حکام نے اپنی پارلیمنٹ سے اس امر کی منطوری لے لی ہیکہ یوگنڈہ کے فوجی غزہ امن منصوبے کے تحت قائم کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ بن سکیں گے۔ یہ استحکام فورس امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تجویز کی تھی۔پارلیمنٹ میں یوگنڈہ کے وزیر دفاع نے یہ قرارداد پیش کی تھی۔ جسے منظور کر لیا گیا ہے۔ مراقش پہلے ہی غزہ میں استحکام فورس کے نام پر اپنے فوجی بھیجنے کا اشارہ دے چکا ہے۔اب یوگنڈہ کے حکام کو بھی پارلیمنٹ نے اس معاملے میں بااختیار کردیا ہے۔ تاہم ابھی یہ حتمی طور واضح نہیں کہ یوگنڈہ کے فوجی لازماً ہی غزہ میں تعینات ہوں گے کیونکہ یوگنڈہ میں اپوزیشن ارکان نے ابھی اس معاملہ پر سوال اٹھائے ہیں۔ یوگنڈہ کے رکن پارلیمنٹ حسن کیرومیرا کا کہنا ہیکہ وہ اس معاملے میں اپنی تشویش ظاہر کریں گے کیونکہ یہ ایک حساس سفارتی معاملہ ہے کیونکہ ہم او آئی سی کے رکن ملک ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ واضح کیا جائے کہ ہماری فوج کس فریق کی جانب سے لڑنے جارہی ہے؟ غالباً اس سلسلہ میں مسلمان ملکوں میں سب سے نازک معاملہ یہ ہیکہ استحکام فورس کی غزہ میں قیادت ایک امریکی جنرل نے کرنا ہے۔دوسری جانب وزیر دفاع کیریووا کیوانکا کو قانون سازوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق امن مشن کا حصہ بننے سے یوگنڈہ کی فوج کی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ فوج مجموعی طور پر 20000 نفری پر مشتمل ہو گی۔ اس کی کمان امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کریں گے۔ اسرائیلی فوج ابھی تک غزہ میں کارروائیاں کررہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ ایال زامر نے کہا ہے کہ ان کی فوج آئندہ بھی غزہ میں پیشگی بنیادوں پر کارروائیاں کرتی رہے گی۔ایال زامر دو روز قبل غزہ میں اسرائیلی فوجیوں سے ملنے گئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے جنگ بندی معاہدے کا نفاذ 10 اکتوبر 2025 کو کیا تھا۔ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ میں 1250 فلسطینی قتل کیے ہیں۔