یو پی آئی لین دین کی 2 ہزار روپے تک فیس سے استثنیٰ

   

نئی دہلی۔ 15 ستمبر (یواین آئی) حکومت کی جانب سے 2,000 روپے تک کے یو پی آئی لین دین کو فیس سے مستثنیٰ رکھنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے بعد اس معاملے پر سیاسی کشمکش شروع ہوگئی ہے ۔ حکومت نے پیر کو دیر رات ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے روپے ڈیبٹ کارڈ کے تمام لین دین اور یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) کے ذریعہ 2,000 روپے تک کے لین دین کو ادائیگی اور تصفیے کے نظام سے متعلق قانون، 2007 کی دفعہ 10 اے میں شامل کیا ہے ۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سروس فراہم کرنے والا ان لین دین پر براہِ راست یا بالواسطہ کسی قسم کی فیس عائد نہیں کرے گا۔ کانگریس کا کہنا ہیکہ دکانداروں پر عائد فیس وہ صارفین سے ہی وصول کریں گے ۔
کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اب 2,000روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کرکے پہلے ہی مہنگائی کی مار جھیل رہے عام لوگوں پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے ۔ کانگریس نے کہا کہ 2,000 روپے سے زیادہ کے یو پی آئی مرچنٹ لین دین تعداد کے لحاظ سے اگرچہ کل لین دین کا صرف پانچ فیصد ہیں، لیکن مالیت کے اعتبار سے یہ 65 فیصد ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ حکومت چاہے یہ کہہ رہی ہو کہ صارفین سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی، لیکن دکانداروں پر عائد ہونے والی فیس آخرکار وہ صارفین سے ہی وصول کریں گے ۔ دوسری جانب بی جے پی رہنما امیت مالویہ نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ حکومت نے صرف 2,000 روپے تک کے یو پی آئی لین دین کو فیس سے مستثنیٰ رکھنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ۔ اس میں 2,000 روپے سے زیادہ کے لین دین پر کسی فیس کا تعین نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اگر کوئی فیس عائد بھی کی جاتی ہے تو وہ صرف دکانداروں پر ہوگی، صارفین پر نہیں۔ اس دوران اسٹاک مارکیٹ این ایس ای کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر آشیش کمار چوہان سے یہاں ایک پروگرام میں یو پی آئی پر فیس عائد کیے جانے کے خوردہ سرمایہ کاری پر اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ابتدائی دنوں میں سرمایہ کاری میں کمی دیکھی جا سکتی ہے ، لیکن طویل مدت میں اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔