یہ ننگے بھوکے جب سے حکومت میں آگئے

   

ٹرمپ سے یاری … بھارت پر پڑ رہی ہے بھاری
گیاس کیلئے عوام لائین میں … مودی کی پراسرار خاموشی

رشیدالدین
’’ٹرمپ سے یاری ، بھارت پر پڑ رہی ہے بھاری‘‘ یہ امیت شاہ کا کوئی انتخابی جملہ نہیں بلکہ موجودہ حالات کا ترجمان اور ہندوستان کی صورتحال کا آئینہ دار ہے۔ مغربی ایشیاء میں جنگ کے حالات نے ہندوستان کو گیاس اور تیل کے بحران میں ڈھکیل دیا ہے۔ گریٹر اسرائیل کے قیام کا خواب دیکھنے والے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوچا تھا کہ ایران پر حملہ کرتے ہوئے واحد مزاحمت کو ختم کردیا جائے گا ۔ اسرائیل کے منصوبہ پر ٹرمپ نے یقین کرلیا کہ ایک ہفتہ میں ایران میں حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا اور اسلام پسندوں کا صفایا ہوجائے گا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بناتے ہی امریکہ اور اسرائیل جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کرنے لگے لیکن 28 فروری کو شروع ہوئی جنگ ٹرمپ اور نتن یاہو کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے ۔ نریندر مودی جو ٹرمپ اور نتن یاہو کے گڈ فرینڈ ہیں ، وہ بھی جنگ میں عملاً پھنس چکے ہیں۔ ایران میں تباہی کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ٹرمپ جنگ روکنے کیلئے ایران کے آگے گڑگڑانے پر مجبور ہیں۔ سپر پاور کو ہتھیار پر بھروسہ تھا لیکن ایران نے اسلامی حمیت اور جذبہ کے ساتھ منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دشمن کے دانت گھٹے کردیئے ۔ بقول علامہ اقبال ؎
کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
ایرانی عوام کے جذبہ ایمانی اور جذبہ حریت کی دنیا قائل ہوگئی اور ایران کی کامیاب جنگی حکمت عملی نے دنیا میں معاشی بحران کی دستک دی ہے۔ حملہ سے عین قبل نریندر مودی کا دورہ اسرائیل ایک معمہ بن چکا ہے۔ مودی اپنے دوستوں ٹرمپ اور نتن یاہو کی محبت میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ ہزاروں سال کے تجارتی ، تہذیبی اور معاشی اٹوٹ رشتہ کو قربان کردیا۔ ٹرمپ اور نتن یاہو سے دوستی کا خمیازہ ہندوستان کے 140 کروڑ عوام بھگت رہے ہیں۔ جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں ہندوستان کے پاس کوئی تیاری نہیں ہے۔ عام آدمی کو پٹرول اور گیاس کے بحران کا اندیشہ تھا لیکن نریندر مودی ہمیشہ کی طرح صورتحال سے بے پرواہ ہوکر سیاسی فائدہ کی سرگرمیوں اور ریالیوں اور روڈ شو میں مصروف رہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ناکام خارجہ پالیسی کے نتیجہ میں اسرائیل کیلئے ایران سے دشمنی مول لی اور خود امریکہ کے آگے سرینڈر ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں ’’نریندر مودی نہیں بلکہ سرینڈر مودی‘‘ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ مودی حکومت کے ناعاقبت اندیش فیصلوں کے نتیجہ میں دنیا بھر میں ہندوستان کا وقار مجروح ہوا ہے۔ ساری دنیا ہندوستان کو امریکہ کی کٹھ پتلی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی اور منموہن سنگھ کی پالیسی پر برقرار رہتے تو آج ہندوستان جنگ کے خاتمہ کیلئے ثالثی کے موقف میں ہوتا۔ نریندر مودی کے پاس سربراہان مملکت کے ساتھ زبردستی گلے پڑنا اور موقع اور بے موقع ہا ہا ، ہی ہی ، ہو ہو کے سوا کچھ نہیں ہے۔ دورہ اسرائیل کے موقع پر سارہ نتن یاہو کے ساتھ ڈریس کے زعفرانی کلر کو لے کر سیم سیم اور میاچنگ کہتے ہوئے قہقہہ قہقہہ لگانا سوشیل میڈیا میں مذاق کا موضوع بن چکا ہے ۔ دنیا میں تیزی سے ابھرتی طاقت ہندوستان ہنسی مذاق کے سوا عالمی قائدین کی نظر میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ نریندر مودی کو آخر ٹرمپ سے اتنا خوف اور نتن یاہو سے محبت کیوں ہے؟ اس سوال کا گہرائی سے جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ تینوں کی فطرت میں یکسانیت ہے۔ جو بھی مسلمانوں کا دشمن ہو ، مودی اس سے دوستی کرلیتے ہیں۔ گجرات فسادات ، ملک بھر میں مسلمانوں کی ماب لنچنگ ، حملے ، مساجد ، درگاہ ، مدارس اور گھروں پر بلڈوزر کارروائیاں دراصل اسرائیل سے سیکھا ہوا سبق ہے۔ وشوا گرو اور 56 انچ کا سینہ کا دعویٰ کرلینے سے کوئی بہادر نہیں ہوجاتا ۔ 56 انچ کے سینہ میں شیر کے جگر کی ضرورت پڑتی ہے لیکن یہاں تو چوہے کا کلیجہ ہے جس کے باعث امریکہ سے آنکھ میں آنکھ ملانے کی ہمت نہیں ۔ نریندر مودی نے جنگ کی صورتحال اور دنیا پر منفی اثرات کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیان تک نہیں دیا جبکہ قوم کو مودی کے جواب کا انتظار ہے۔ ہر مسئلہ پر نریندر مودی کی خاموشی دراصل کمزوری کی علامت ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں مودی نے ایک بھی پریس کانفرنس نہیں ہے کی اور وہ سوالات سے ڈرتے ہیں۔ ایران پر حملہ ، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت اور ملک میں گیاس اور تیل کے بحران پر بھی نریندر مودی زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مودی نے 2016 میں ایران کا دورہ کیا تھا۔ آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کے بعد مودی نے ایران کے ساتھ تاریخی دوستی کا حوالہ بھی دیا تھا لیکن 2026 میں جب سپریم لیڈر کو امریکہ اور اسرائیل نشانہ بناتے ہیں لیکن آج تک مودی نے رسمی تعزیت تک نہیں کی۔ اسکول کے 180 سے زائد طلبہ کی ہلاکت پر بھی مودی کا دل نرم نہیں ہوا۔ میڈیا کے سوالات سے گھبرانے والے نریندر مودی کو اب کارٹونس سے بھی ڈر لگ رہا ہے۔ کرناٹک کے مشہور کارٹونسٹ ستیش آچاریہ نے مودی کی خاموشی پر دو کارٹون تیار کئے جو سوشیل میڈیا میں خوب وائرل ہوئے۔ کارٹونس میں کوئی توہین نہیں بلکہ سچائی پیش کی گئی تھی لیکن کارٹونسٹ کو نہ صرف نوٹس دی گئی بلکہ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر ہندوستان میں دکھائے جانے پر پابندی عائد کردی گئی۔ سرکردہ میڈیا ہاوزس کے قلم اور ٹی وی اینکرس کی زبانیں خرید لی گئیں اور اب کارٹونس بھی برداشت نہیں ہیں۔ آپریشن سندور کے بعد جنگ بندی کے بارے میں 20 سے زائد مرتبہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ لیکن ٹرمپ کی داداگری کے آگے مودی خاموش رہے۔
ہندوستان میں عوام ایل پی جی سلینڈر کیلئے لائین میں لگ چکے ہیں۔ یہ قطاریں نوٹ بندی کی یاد دلا رہی ہے جب عوام کو بینکوں کی قطاروں میں کھڑا کردیا گیا تھا ۔ جنگ کے نتیجہ میں ہندوستان میں ایل پی جی کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے ۔ ماہرین نے پٹرول اور ڈیزل کے بحران کا بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ایل پی جی کی قلت کے نتیجہ میں بڑے شہروں میں کئی ہوٹلس اور ریسٹوران بند ہوگئے اور عوام دوبارہ لکڑی پر پکوان کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ایل پی جی ، سی این جی ، پٹرول اور ڈیزل کا بحران شدت اختیار کرے تو ہوسکتا ہے کہ سیکل اور سیکل رکشہ کے دور کا احیاء ہوگا۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہوئے دشمن ممالک کے جہازوں کو گزرنے سے روک دیا ہے ۔ ہندوستان کے بحری جہازوں کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ یہ صورتحال ہندوستان کی ٹرمپ اور نتن یاہو سے دوستی کا نتیجہ ہے ۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے دنیا کے بیشتر حصوں میں تیل اور گیاس کا بحران پیدا کردیا ہے۔ عوام کو مطمئن کرنے کیلئے حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے ہندوستانی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس دعویٰ کے کچھ دیر بعد ہی ایران نے واضح کردیا کہ اس نے ہندوستان کے ساتھ ایسی کوئی رعایت نہیں کی ہے۔ ہمیشہ کی طرح جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کو کب تک بہلایا جائے گا۔ گودی میڈیا نے اس مسئلہ پر نریندر مودی کی واہ واہی شروع کردی تھی لیکن ایران کی تردید کے ساتھ ہی گودی میڈیا کے چیانلوں پر سناٹا چھاگیا۔ آپریشن سندور کے دوران بھی گودی میڈیا نے راولپنڈی ، لاہور اور کراچی پر قبضہ کا دعویٰ کیا تھا ، حالانکہ ہندوستانی افواج نے اپنی کارروائی دہشت گرد ٹھکانوں تک محدود رکھی تھی۔ مودی حکومت دراصل گودی میڈیا کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو سڑکوں پر آنے سے روکا جاسکے۔ ایل پی جی کی قلت پر عوام حکومت سے سوال کر رہے ہیں کہ کرونا کی طرح تالی بجاکر یا گھنٹی بجاکر نریندر مودی گیاس حاصل کریں گے۔ یا پھر اسرائیل سے گیاس حاصل ہوگی۔ اگر بحران شدت اختیار کرتا ہے تو عوام کو نریندر مودی کے بتائے ہوئے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے موری اور نالی سے گیاس حاصل کرنا پڑے گا اور سورج کی گرمی سے کھچڑی تیار کی جائے گی۔ کسی سیاستداں نے پارلیمنٹ میں کہا کہ اگر مرکزی حکومت نریندر مودی کی ’’موری گیاس‘‘ فارمولہ پر ریسرچ کرتی تو آج ہندوستان میں شائد گیاس کا بحران پیدا نہ ہوتا۔ ایک طرف گیاس اور تیل کے بحران سے نہ صرف عوام پریشان ہیں بلکہ چھوٹی اور متوسط صنعتیں اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں تو دوسری طرف نریندر مودی اپنے دوستوں ٹرمپ اور نتن یاہو کی تائید میں مصروف ہیں۔ جنگ کے 15 دن گزرگئے اور اسرائیل اور امریکہ حملے روکنے کیلئے تیار نہیں تو دوسری طرف ایران جھکنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود لاکھوں ہندوستانی تارکین وطن اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ رئیس انصاری نے شائد موجودہ حکمرانوں کے لئے ہی یہ شعر کہا تھا ؎
یہ ننگے بھوکے جب سے حکومت میں آگئے
اس ملک کے غریب مصیبت میں آگئے