11 ہزار ملازمتوں پر تقررات کی منظوری‘ایس سی زمرہ بندی مسودہ کو منظوری

   

12 تا27 مارچ اسمبلی بجٹ سیشن ، بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات ‘ 30 ہزار ایکر پر فیوچر سٹی کا قیام ‘ کابینہ کے فیصلے
حیدرآباد۔/6 مارچ، ( سیاست نیوز) ریاستی کابینہ کا ایک اجلاس چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی صدارت میں تقریباً 6 گھنٹوں تک سکریٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ ایس سی زمرہ بندی کے مسودہ بل کو کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ فیوچر سٹی بورڈ کی تشکیل کو بھی منظوری حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ ندیوں کے پانی کے مسئلہ پر خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اُگادی سے’ بھوبھارتی‘ پر عمل کی قرارداد منظور کی گئی۔ کابینہ نے نوجوانوں کو خوشخبری دیتے ہوئے 10,950 ویلیج لیول آفیسرس جائیدادوں پر تقررات کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ نئے ریوینیو ڈیویژنس و منڈلس کیلئے 217 جائیدادیں، 10 اضلاع کورٹس کیلئے 55 جائیدادوں کو بھی منظوری دی گئی۔ 12 تا 27 مارچ اسمبلی کے بجٹ سیشن کا انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی اور پونم پربھاکر نے اجلاس کے فیصلوں سے واقف کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایس سی زمرہ بندی کی جائے گی قانونی مسائل کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا جائیگا۔ بی سی طبقات کو مقامی اداوں، تعلیم اور ملازمتوں میں بھی 42 فیصد تحفظات کی منظوری دی گئی ۔ پارلیمانی حلقوں کی ازسر نو حد بندی میں جنوبی ہند سے ناانصافی کے خلاف کُل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی رائے حاصل کرکے مرکز سے نمائندگی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی سرینواس ریڈی نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ سے ریجنل رنگ روڈ تک 30 ہزار ایکر اراضی پر فیوچر سٹی کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ناگرجنا ساگر۔ سری سیلم راہداری کے درمیانی علاقے میں فیوچر سٹی رہے گا۔ فیوچر سٹی کیلئے 90 اسپیشل جائیدادوں کو منظوری دی گئی ۔ ایچ ایم ڈی اے کو بھی بڑے پیمانے پر توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس کا احاطہ 11 اضلاع 104 منڈل، 355 گاؤں پر مشتمل ہوگا۔ اس کے حدود میں 332 نئے ریوینیو ویلیج قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایک کروڑ خواتین کو کروڑپتی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ریاست کی تمام خواتین تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ریاست میں نئی سیاحتی پالیسی متعارف کراتے ہوئے اس میں 27 نئے سیاحتی مراکز کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مس ورلڈ مقابلوں کے انعقاد کو منظوری دی گئی۔2