13 مئی کو رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کیلئے ہر گوشہ سے جدوجہد

   

فارم ہاوز مالکین کی تشہیر سے رائے دہندوں کو تفریح کیلئے راغب کرنے کی کوشش ، جمہوریت کیلئے نقصان دہ
حیدرآباد۔2۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 13مئی کو رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے علاوہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے بھی ریاست میں رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے لیکن سوشل میڈیا پر فارم ہاؤز مالکین کی جانب سے رائے دہی کے دن اور اس سے دو یوم قبل کی تعطیلات کے علاوہ گرمائی تعطیلات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈسکاؤنٹس کی پیشکش کی جا رہی ہے اورشہری علاقوں کے رائے دہندوں کو فارم ہاؤز میں تین یوم کے قیام کے پیاکیج پر خصوصی رعایت دیتے ہوئے تشہیری مہم چلائی جا رہی ہے۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد سے تعلق رکھنے والے رائے دہندے جو تعطیلات منانے کے لئے اکثر و بیشتر شہر کے نواحی علاقوں کا رخ کرتے ہیں گرمی سے راحت کے لئے ان پیاکیجس کا استعمال کرنے لگے ہیں جبکہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور مختلف گوشوں سے رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کے لئے متعدد اپیلیں کی جا رہی ہیں لیکن اس کے باوجود عوام بالخصوص رائے دہندے اپنے افراد خاندان کے ساتھ 13 مئی کو تعطیل تصور کرتے ہوئے فارم ہاؤز کا رخ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔شہریوں میں پائے جانے والے اس افسوسناک رجحان کے سلسلہ میں سماجی تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ جو لوگ موجودہ سیاست اور امیدواروں سے ناامید ہوچکے ہیں وہ رائے دہی کے دن کو تعطیل کے دن کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ بدظن ہونے والے رائے دہندے بھی اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کر سکتے ہیں لیکن شعور کی کمی کے سبب وہ ناراضگی کا اظہار کرنے کے بجائے رائے دہی سے دور رہنے لگے ہیں ۔سیاسی جماعتوں کے قائدین کا کہناہے کہ رائے دہی کے دن نواحی علاقوں میں تفریح کے لئے چلے جانے کا چلن کوئی نیا نہیں ہے لیکن حالیہ عرصہ میں اس میں کافی اضافہ دیکھا جا رہاہے ۔سیاسی قائدین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ اس انتہائی اہم دن تفریح کے لئے روانہ ہوتے ہیں تو وہ آئندہ 5 سال تک شکایت کا حق نہیں رکھتے اسی لئے انہیں اپنی ذمہ داری نبھانے کے سلسلہ میں سنجیدگی اختیار کرنی چاہئے تاکہ رائے دہی میں اضافہ کے ذریعہ جمہوریت کو مستحکم کیا جاسکے۔نوجوان طبقہ میں سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے سلسلہ میں پائی جانے والی ناراضگی کے سبب نوجوان اپنے ووٹوں کے استعمال سے گریز کر رہے ہیں جو کہ جمہوریت کے لئے نقصاندہ ہے۔3