150 میڈیکل کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم ہوجانے کا اندیشہ

,

   

گجرات ، آندھراپردیش ، بنگال و دیگر ریاستوں کے کالجس شامل ۔ 40 کالجوں کے خلاف تعزیری کارروائی ہوچکی

نئی دہلی : ملک کے لگ بھگ 150 میڈیکل کالجوں کی مسلمہ حیثیت ان کے پاس ناکافی فیکلٹی اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی عدم تعمیل کی پاداش میں نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے ختم کردیئے جانے کا اندیشہ ہے ۔ یہ کمیشن ملک کی میڈیکل ایجوکیشن اور میڈیکل پروفیشنلس کیلئے قواعد و ضوابط طئے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرانے والا ادارہ ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ پہلے ہی ملک بھر کے مختلف حصوں کے 40 میڈیکل کالجس اپنی مسلمہ حیثیت کھوچکے ہیں اور انہیں اب دوبارہ اپنی حیثیت بحال کرنے کیلئے کمیشن کو ثبوت دینا ہوگا کہ وہ مقررہ معیارات کی تکمیل کررہے ہیں ۔ این ایم سی کے راڈر پر جو کالجس ہیں ، ان کی فہرست میں گجرات ، آسام ، آندھراپردیش ، ٹاملناڈو ، پنجاب ، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے کالجس شامل ہیں ۔ ان کالجس میں مختلف نوعیت کی خامیوں کا انکشاف اُس وقت ہوا جب کمیشن نے تقریباً ایک ماہ تک اپنے انڈر گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ کے ذریعہ انسپیکشن کرایا ۔ اس میں معلوم ہوا کہ کئی طرح کی خامیاں موجود ہے اور مقررہ قواعد کی تعمیل نہیں کی جارہی ہے۔ بورڈ نے سی سی ٹی وی کیمروں کے ڈاٹا کا جائزہ لیا ۔ بورڈ کو آدھار سے مربوط بائیو میٹرک اٹنڈنس کے طریقہ کار اور فیکلٹی کی تفصیلات میں بھی خامیاں ملیں ۔ ذرائع نے کہا کہ کئی کالجس میں کیمروں کی ٹھیک ڈھنگ سے تنصیب نہیں اور کئی کیمرے غیرکارکرد پائے گئے ۔ بائیو میٹرک کی سہولت کا بھی فقدان دیکھنے میں آیا ۔ لیکچررس اور دیگر فیکلٹی کے کئی عہدے انسپیکشن کے دوران خالی پائے گئے ۔ ڈسمبر میں مرکزی وزیر صحت منسوکھ منڈاویا نے میڈیکل کالجس کو متنبہ کیا تھا کہ مناسب فیکلٹی نہ ہونے اور قواعد کی تعمیل نہ کرنے پر کالجوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ جن کالجس کے خلاف تعزیری کارروائی کی گئی ، ان کو اپیل کا موقع ہے ۔ پہلی اپیل این ایم سی میں اندرون 30 دن کی جاسکتی ہے ۔ اگر اپیل مسترد کردی جاتی ہے تو وہ مرکزی وزارت صحت سے رجوع ہوسکتے ہیں ۔ 2014 ء میں ملک بھر میں 387 میڈیکل کالجس تھے ۔ 2023 ء میں یہ تعداد میں 660 کا اضافہ ہوا ۔