جامع تحقیقات ضروری ۔ بینک مینیجر کی گرفتاری سے شبہات کو تقویت ۔ مرکزی ایجنسیاں بھی متوجہ
حیدرآباد 29 اگسٹ(سیاست نیوز) بینک کھاتوں کے ذریعہ 175کروڑ کا اسکام کوئی سائبر دھوکہ دہی ہے یا بھاری رقومات کی بیرون ملک منتقلی یہ تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ پرانے شہر کے علاقہ میں موجود اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے کھاتوں کے ذریعہ سائبر دھوکہ دہی کے مقدمہ میں پیشرفت کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ یہ کوئی سائبر دھوکہ دہی سے متعلق معاملہ نہیں ہے بلکہ بھاری رقومات کی سائبر دھوکہ دہی کے نام پر بیرون ملک منتقلی کا معاملہ ہوسکتا ہے کیونکہ تحقیقات کر رہے عہدیداروں نے پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے 2 نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد گذشتہ یوم اسٹیٹ بینک آف انڈیا شاخ شمشیر گنج کے منیجر کو بھی گرفتار کر لیا اور اگر یہ سائبر دھوکہ دہی کا معاملہ ہوتا تو اس میں بینک منیجر کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی بلکہ 175 کروڑ کی بیرون ملک منتقلی کیلئے سائبر دھوکہ بازوں کی تلاش کے اقدامات کئے جاتے لیکن اس معاملہ میں ایسا نہیں ہے بلکہ پولیس کی جانب سے اس واقعہ کا پردہ فاش کئے جانے کے بعد کہا جا رہاہے کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی نظریں بھی اس واقعہ پر ہیں اور وہ بھی مختلف زاویوں سے اس سارے معاملہ کا جائزہ لے رہی ہیں اور تفصیلات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ’حوالہ‘ کے ذریعہ رقومات کی منتقلی کے نام پر شروع ہوئی اس تحقیقات کے تار دوبئی سے جڑچکے ہیں اور تحقیقات میں شامل عہدیداروں کی جانب سے اب تک کئے گئے انکشاف میں کہا گیا ہے کہ 2 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک آف انڈیا شمشیر گنج شاخ کے 6کھاتوں میں مشتبہ سرگرمیوں اور 175 کروڑ روپیوں کی منتقلی کی شکایات ملنے کے بعد نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل پر موصول شکایات کی بنیاد پر ازخود کاروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیاگیاتھا اور اس میں 2 کھاتہ داروں کی گرفتاری عمل میں لائی جاچکی ہے اور گذشتہ یوم بینک منیجر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ملک میں عام انتخابات سے عین قبل یعنی ماہ مارچ اور اپریل 2024 کے دوران ان کھاتوں کے ذریعہ 175 کروڑ کے خردبرد کے معاملہ کی جانچ کے سلسلہ میں مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے بھی تحقیقات کا امکان ظاہر کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ یہ کوئی معمولی سائبر دھوکہ دہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم ریاکٹ ہے جو کہ ملک سے بھاری رقومات کو بیرون ملک منتقل کرنے کے معاملہ میں ملوث ہے اور اس ریاکٹ کو چلانے والے بعض طاقتور افراد معصوم شہریوں یا اپنے ملازمین کے کھاتو ںکا استعمال کرکے ہندوستان سے اپنا کالا دھن منتقل کررہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک آف انڈیا شمشیر گنج شاخ میں 6کھاتوں کے ذریعہ رقومات کی منتقلی یا ان کے ذریعہ مشتبہ سرگرمیوں کی تحقیقات کے متعلق انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے علاوہ سی بی آئی کی جانب سے بھی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں علاوہ ازیں مرکزی محکمہ داخلہ کے معاشی جرائم سے متعلق شعبہ نے بھی ایک ہی بینک کے 6کھاتوں سے 175 کروڑ کی منتقلی یا مشتبہ سرگرمیوں کا نوٹ لیتے ہوئے اس تحقیقات پر گہری نظر رکھنے کافیصلہ کیا ہے تاکہ اس ریاکٹ کے حقائق کا پتہ لگایا جاسکے ۔ بتایاجاتا ہے کہ تحقیقات کے دوران تاحال 5 افراد بشمول اصل سرغنہ کے نام کا بھی ایجنسیوں کو پتہ چل چکا ہے اور ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے دوبئی میں موجود شخص کے متعلق بھی تفصیلات اکٹھا کرکے اس کے حیدرآباد میں بااثر افراد سے روابط پر معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔3