حیدرآباد۔5۔مارچ۔(سیاست نیوز) ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی کے بیان نے ملک میں اپوزیشن اتحاد کی کوشش کرنے والی سیاسی جماعتوں اور قائدین کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ترنمول کانگریس سربراہ کا بیان بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ اگر وہ اپنے بیان پر قائم رہتے ہوئے مخالف بی جے پی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنتی ہیں تو ایسی صورت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہی فائدہ ہوگا۔ ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی چیف منسٹر مغربی بنگال نے گذشتہ یوم دیئے گئے بیان میں کہا کہ 2024 عام انتخابات میں ان کا کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد نہیں ہوگا اور ان کی پارٹی تنہاء مقابلہ کرے گی۔ ممتا بنرجی کے اس بیان کے بعد چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ سربراہ بھارت راشٹر سمیتی کی توقعات پر پانی پھر گیا ہے کیونکہ انہیں توقع تھی کہ ترنمول کانگریس جو کہ مخالف بی جے پی اور مخالف کانگریس اتحادکے حق میں ہے وہ ان کے ساتھ آئے گی کیونکہ بی آر ایس بھی غیر کانگریس اور غیر بی جے پی اتحاد کی بات کررہی ہے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال کے اس اعلان کے بعد کہا جار ہاہے کہ جلد ہی عام آدمی پارٹی کی جانب سے بھی تنہاء مقابلہ کے اعلان کئے جانے کے امکان ظاہر کئے جا رہے ہیں کیونکہ چیف منسٹر دہلی اروندکجریوال اکثر ممتا بنرجی کی طرح فیصلہ کرتے ہیں اور سیاسی حکمت عملی میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ممتا بنرجی کے اس اعلان نے نہ صرف بی آر ایس بلکہ کانگریس کو بھی جھٹکا دیا ہے کیونکہ کانگریس کو بھی توقع تھی کہ 2024 کے قریب آتے آتے ملک میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا اتحاد تشکیل پائے گا اور مشترکہ اقل ترین ایجنڈہ کے ذریعہ مخالف بی جے پی سیاسی جماعتیں ملک سے فرقہ واریت کے خاتمہ کے لئے متحد ہوجائیں گی لیکن ترنمول کانگریس کے اعلان کے بعد اب ملک میں یو پی اے یا کسی اور محاذ کے مستحکم ہونے کے امکانات موہوم ہونے لگے ہیں جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ 2024 عام انتخابات کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ علاقائی سیاسی جماعتوں کے عظیم اتحاد کی کوششیں ممتا بنرجی کے اس اعلان کے ساتھ مشکل میں پڑسکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد ملک کے سرکردہ سینیئر سیاسی قائدین شرد پوار‘ فاروق عبداللہ کے علاوہ دیگر کی جانب سے ممتا بنرجی سے بات چیت کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے گا تاکہ ترنمول کانگریس کو مخالف فرقہ پرستی اتحاد کا حصہ بنایا جائے۔م