37 کارپوریشنوں کے صدورنشین میعاد میں توسیع کے لیے سرگرم

   

عہدہ سے محروم قائدین میں ناراضگی، کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کا تیقن، وزراء اپنے حامیوں کے لیے متحرک
حیدرآباد 30 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ کے مختلف کارپوریشنوں اور بورڈس کے صدورنشین کی میعاد قریب الختم ہے اور اُن میں سے بیشتر میعاد میں توسیع کے لئے چیف منسٹر اور وزراء کے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ڈسمبر 2023ء میں تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد جولائی 2024ء میں 37 کارپوریشنوں اور اداروں کے صدورنشین کا تقرر کیا گیا جن کی میعاد 2 سال مقرر کی گئی۔ جولائی کے پہلے ہفتہ میں صدورنشین کی میعاد مکمل ہوجائے گی لیکن وہ گزشتہ ایک ماہ سے میعاد میں توسیع کیلئے ہر سطح پر پیروی میں مصروف ہیں۔ چیف منسٹر کے مشیر وی نریندر ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے صدورنشین نے میعاد میں توسیع کے لئے سفارش کی درخواست کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے بھی مختلف صدورنشین نے وزراء کے ہمراہ ملاقات کرتے ہوئے میعاد میں توسیع کی درخواست کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے واضح کردیا کہ نئے چہروں کو موقع دینے کے لئے حکومت کارپوریشنوں کے صدورنشین کی میعاد میں توسیع کے حق میں نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ صدورنشین میں چند مخصوص کارپوریشنوں کے صدورنشین کی میعاد میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ جن کے خلاف بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے الزامات ہیں اُن کی میعاد میں ہرگز توسیع نہیں ہوگی۔ بہتر کارکردگی اور کلین امیج رکھنے والے صدورنشین کو توسیع دینے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد صرف ایک مرتبہ نامزد عہدوں پر تقررات کئے گئے۔ ایسے قائدین جنھیں ابھی تک توسیع نہیں ملی اُنھوں نے موجودہ صدورنشین کی میعاد میں توسیع کی مخالفت کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کانگریس 10 برسوں تک اقتدار سے دور رہی اور برسر اقتدار آنے کے بعد ایسے قائدین کو عہدوں کے معاملہ میں ترجیح دی گئی جو الیکشن سے عین قبل پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اے آئی سی سی سکریٹری انچارج میناکشی نٹراجن نے نامزد عہدوں پر تقررات کے معاملہ میں ریاست کے قدیم اور سرگرم قائدین کی فہرست تیار کی ہے جسے ہائی کمان کو روانہ کیا گیا۔ امید کی جارہی ہے کہ جولائی کے دوسرے ہفتہ تک نئے تقررات کے علاوہ بعض صدورنشین کی میعاد میں توسیع کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے انٹلی جنس اور دیگر اداروں سے کارپوریشنوں کی کارکردگی پر رپورٹ طلب کی ہے۔ وزراء کی جانب سے بھی اُن کے قریبی قائدین کے ناموں کی چیف منسٹر سے سفارش کی گئی ۔ V/1/k/b