48ایغور مسلمانوں کی ’چین واپسی‘ کی تیاری ، تھائی لینڈ حکام کی تردید

   

یہ فیصلہ قومی سلامتی کونسل کرے گی ، تاحال ہمارے پاس واپس بھیجنے کا کوئی حکم نہیں: امیگریشن ڈپارٹمنٹ

بنکاک : تھائی لینڈ نے ملک کے حراستی مراکز میں موجود 48 ایغور مسلمانوں کو چین بھیجنے کے منصوبے کی تردید کی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تھائی لینڈ حکام کی جانب سے یہ تردید اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ایغور مسلمان واپس چین آئے تو انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا تھا کہ تھائی حکومت اویغور مسلمانوں کو فوری طور پر واپس بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ منگل کو اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے حکام پر زور دیا تھا کہ وہ اس ممکنہ منتقلی کو ’فوری طور پر روکیں۔‘امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ فیصلہ قومی سلامتی کونسل کرے گی۔ تاحال (انہیں واپس بھیجنے کا) کوئی حکم نہیں ہے۔قومی سلامتی کونسل کے ایک اہلکار نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ ایسی کوئی ہدایت نہیں کی گئی۔پیر کو قومی پولیس کے سربراہ کترات فانفیٹ نے کہا تھا کہ ’تھائی پولیس اور امیگریشن ڈپارٹمنٹ کو ملک بدری کے بارے میں کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔چہارشنبہ کو حراست میں لیے گئے ایغور مسلمانوں کے بارے میں پوچھے جانے پر چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ ’مخصوس صورتحال سے آگاہ نہیں ہے۔وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ’ہم غیرقانونی نقل مکانی کی کسی بھی قسم کے خلاف سختی سے کریک ڈاؤن کرتے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی تارکینِ وطن کے رویّے کی حمایت کی مخالفت کرتے ہیں۔2013 اور 2014 میں حراست میں لیے گئے 48 اویغور مسلمانوں کے گروپ کو تھائی لینڈ کے قریب امیگریشن مراکز میں رکھا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں تحفظ حاصل کرنے کی غرض سے تھائی سرحد عبور کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور مبینہ طور پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا جہاں وکلاء یا خاندان کے افراد تک رسائی نہیں۔ماہرین نے تھائی لینڈ کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ کے طریقہ کار اور انسانی امداد تک رسائی میں ان کی مدد کرے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ ان افراد کو چین واپس نہیں جانا چاہیے۔ ہمیں تشویش ہے کہ انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔