یروشلم : مصری ساحل کے قریب دکار نامی اسرائیلی آبدوز کے ڈوبنے کی 55 ویں برسی کے موقع پر اسرائیلی فوج نے اس کی تلاش کیلئے کی جانے والی کوششو ں اور آپریشنز پر مشتمل ایک ڈائری شائع کی ہے جس سے ایک بار پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آبدوز کے ڈوبنے کا سبب کیا تھا ۔ کیا آبدوز کو تباہ کیا گیا یا فنی خرابی تباہی کا باعث بنی ؟ ۔ یہ پُراسرار معمہ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی حل نہیں ہوسکا ۔ یہ آبدوز 25جنوری 1968کو برطانیہ سے اسرائیل جاتے ہوئے اپنے پہلے سفر کے دوران لاپتہ ہوگئی تھی ۔ شدید تلاش کے باوجود جب سراغ نہ ملا تو تلاش روک دی گئی ۔ اسرائیل نے یہ آبدوز برطانوی بحریہ سے خریدی تھی اور اس کی لانچنگ کے دو ہفتہ بعد حفی کی بندرگاہ پر جاتے وقت اس کے اہلکاروں سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا ۔ عبرانی دکار سے مراد گہرے پانی میں رہنے والی بڑی شکاری مچھلیوں کی ایک قسم ہے ۔ یہ آبدوز 87میٹر لمبی اور 8میٹر چوڑی تھی اور اس میں تارپیڈو لانچ کرنے کیلئے ٹیوبیں لگائی گئی تھیں ۔ڈپارٹمنٹ نے اس کے ڈوبنے اور عملے کے 69ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کردی تھی۔