تل ابیب :9 ستمبر ( یو این آئی ) اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے سے تقریباً 10 روز قبل متحدہ عرب امارات کے صدر نے ذاتی طور پر اسرائیلی وزیر اعظم کو خبردار کیا تھا کہ حماس اسرائیل کے خلاف ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اخبار نے کہا کہ نیتن یاہو نے ملکی سکیورٹی حکام کو اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی اور اس اہم معلومات پر کوئی کارروائی نہیں کی۔اسرائیلی اخبارکی اس رپورٹ میں صحافی شلومی ایلڈر اور روتھ یووال کی نئی کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے جو دنیا بھر کے اعلیٰ حکام سمیت درجنوں ذرائع کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آخر میں دونوں رہنماؤں کے درمیان 45 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی تھی، جس کے مندرجات سے تین اعلیٰ غیر ملکی حکام کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے اماراتی صدر کے ایک فلسطینی مشیر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو غزہ سے متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے تھے اور اس گفتگو کے بارے میں براہ راست علم رکھتے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اماراتی صدر محمد بن زاید نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس کے رہنما یحییٰ سنوار اسرائیل کے خلاف کسی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں خونریزی ہو سکتی ہے، خطے کا امن متاثر ہو سکتا ہے اور اسرائیل و عرب ممالک کے درمیان ہونے والے ‘معاہدات ابراہیمی’ کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 45 منٹ کی اس کال پر نیتن یاہو کے حد سے زیادہ پرسکون ردعمل نے اماراتی صدر کو حیران کر دیا۔