صنعاء ۔ یکم ؍ اگست (ایجنسیز) ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے باب المندب میں سعودی عرب کے 8 آئل ٹینکرز کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام سعودی توانائی کی برآمدات کے خلاف عائد کردہ بحری ناکہ بندی کا حصہ ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اب ان آئل ٹینکرز کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے جنوبی افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سفر کرنا ہوگا، جس سے ایشیا جانے والے بحری سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔ سعودی عرب نے تاحال ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔ گزشتہ ہفتے حوثیوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے باب المندب میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام یمن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام علاقوں پر سعودی عرب کی طویل عرصے سے جاری ناکہ بندی کے جواب میں کیا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حوثی اپنی دھمکیوں پر عمل کرتے ہوئے اس گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیتے ہیں تو عالمی تجارت کو مزید شدید دھکہ لگ سکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سپلائی چین پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ میڈیا کے مطابق بحری ٹریفک فی الحال جاری دکھائی دیتی ہے۔ بحری جہازوں کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے کپلر کے مطابق جمعہ کے روز 47 جہاز دونوں سمتوں میں باب المندب سے گزرے۔ حوثیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کا اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کی ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔