بیجاپور: تنظیم کے اندر بڑھتے ہوئے اندرونی جھگڑوں کے درمیان چھتیس گڑھ کے بیجاپور میں منگل کو 9 نکسلیوں نے ، جن میں چار ماؤنوازوں کے سر پر 23لاکھ روپے کا انعام تھا، نے پولیس کے سامنے خودسپردگی کی۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں ممنوعہ سی پی آئی (ایم) تنظیم کا ایک پارٹی ممبر، جس پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا، پی ایل جی اے بٹالین کے علاقے میں فعال طور پر کام کر رہا تھا، ایک اے سی ایم، جس پر 5 لاکھ روپے کا انعام تھا، اے او بی ڈویژن میں کام کر رہا تھا، دو اے سی ایم، 5 لاکھ روپے کی انعامی رقم لیکر جاگارو اور جنوبی زونل کمیٹی بوریڈا اے میں کام کر رہے تھے۔
ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں نے کہا کہ وہ سماج کے مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور آزاد خاندانی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ہتھیار ڈالنے والے نو نکسلیوں میں لکشمی ماڈوی عرف کھٹو (8 لاکھ روپے انعام)، پی ایل جی اے بٹالین ممبر، پلی ارپا عرف تارا (5 لاکھ روپے انعام) – اے او بی ڈویژن کے اے سی ایم، بھیم مڈکم (5 لاکھ روپے انعام) – جاگرگنڈہ ایریا کے اے سی ایم، 5 لاکھ ساؤتھ سی ایم، 5 لاکھ کا انعام – ملیشیا پلاٹون سیکشن کے رکن، راملو بھنڈاری عرف رامو – سی این ایم کے نائب صدر، دیوا مڈکم عرف مدھو جنتا سرکار کے رکن اور راما پونم عرف ٹکا – ملیشیا کے رکن، ہنگا مادوی عرف کٹی ملیشیا پلاٹون کے رکن ہیں۔قابل ذکر ہے کہ چھتیس گڑھ میں چودہ مہینوں کے دوران 300 سے زیادہ نکسلی مارے گئے ۔ اس عرصے کے دوران 981 نکسلیوں نے خودسپردگی کی ہے اور 1183 نکسلیوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ ہتھیار ڈالنے والے نکسلائٹس اور نکسل سے متاثرہ خاندانوں کے لیے بحالی کی پالیسی کے تحت 15 ہزار وزیر اعظم ہاؤسز کو منظوری دی گئی ہے