E20حکومت کی ماحولیاتی ترجیح نہیں : کانگریس

   

نئی دہلی، 6 اگست (یو این آئی) کانگریس نے ای20 ایندھن پالیسی کے تعلق سے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسے صاف ستھری توانائی اور تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کی سمت میں بڑا قدم بتا کر جلد بازی میں پورے ملک میں نافذ کیا جا رہا ہے ، لیکن سچ یہ ہے کہ اس کے آبی وسائل اور غذائی تحفظ پر پڑنے والے اثرات کا مجموعی جائزہ نہیں لیا گیا ہے ۔کانگریس شعبہ اطلاعات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان میں ایتھنول کی پیداوار بنیادی طور پر گنا، دھان اور مکئی جیسی زیادہ پانی کی کھپت والی فصلوں سے ہوتی ہے ، جبکہ کئی دیگر ممالک زرعی باقیات اور دیگر حیاتیاتی فضلے سے ایتھنول تیار کرتے ہیں۔ گنا اور دھان ملک کے جملہ آبپاشی کے پانی کا تقریباً 70 فیصد استعمال کرتے ہیں۔ ایک لیٹر گنا پر مبنی ایتھنول کی پیداوار میں تقریباً 3,630 لیٹر، چاول پر مبنی ایتھنول میں 10,790 لیٹر تک اور مکئی پر مبنی ایتھنول میں تقریباً 4,670 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے حصے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گرتی جا رہی ہے ۔ نیتی آیوگ کے 2021 کے ایتھنول روڈ میپ میں بھی زیادہ پائیدار فیڈ اسٹاک اپنانے کی ضرورت قبول کی گئی تھی، لیکن اس کے برعکس مرکزی حکومت ایتھنول کی پیداوار کے لیے چاول کے استعمال کو سبسڈی دے رہی ہے ۔
رمیش نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں قبول کیا ہے کہ ایتھنول ڈسٹلریز کو ان کی اوسط خرید قیمت سے تقریباً 40 فیصد کم قیمت پر چاول دستیاب کرایا جا رہا ہے کانگریس نے کہا کہ واقعی ‘گرین’ ایندھن پالیسی وہی ہوگی جو ایندھن کو فروغ دیتے ہوئے اس کے پورے ماحولیاتی اثرات کا بھی جائزہ لے ۔ پارٹی کا الزام ہے کہ ای 20 کو فروغ دینے کے پیچھے کی ترغیب ماحولیاتی نہیں ہے ۔