SIR مہم کے تحت تلنگانہ میں 70 لاکھ ناموں کو حذف کرنے کی سازش : ریونت ریڈی

   

تلنگانہ میں بی جے پی کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے، روزگار کیلئے تعلیم کے ساتھ ہنر لازمی، مسابقتی امتحانات میں کامیاب اقلیتی امیدواروں کو تہنیت

حیدرآباد۔13۔اگسٹ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ SIR مہم کے ذریعہ تلنگانہ میں 60 تا 70 لاکھ ناموں کو ووٹر لسٹسے حذف کرتے ہوئے بی جے پی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی سازش کر رہی ہے ۔ انہوں نے عوام بالخصوص اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ جاریہ ایس آئی آر مہم کے آئندہ 10 دنوں میں گھر گھر پہنچ کر ہر مستحق رائے دہندے کے نام کو فہرست میں شامل کرانے میں مدد کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ووٹ کا حق سونے سے زیادہ قیمتی ہے اور 2028 کے الیکشن کے رائے دہندوں کا آج انتخاب کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر آج بنجارہ ہلز کے کمرم بھیم بھون میں مینارٹیز ایکسلینس سمٹ سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس تقریب میں گروپ امتحانات اور دیگر مسابقتی امتحانات میں نمایاں مظاہرہ کرنے والے اقلیتی امیدواروں کو تہنیت پیش کی گئی۔ گروپ I کے تحت منتخب اقلیتی امیدوار مختلف سرکاری محکمہ جات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اقلیتی امیدواروں میں لیاپ ٹاپ تقسیم کئے گئے۔ چیف منسٹر نیکہا کہ بنگال کے بعد بی جے پی کی نظر تلنگانہ پر ہے لیکن تلنگانہ کے عوام باشعور ہیں اور وہ فرقہ پرست طاقتوں کو برسر اقتدار آنے نہیں دیں گے۔ چیف منسٹر نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ گھر گھر جا کر ایس آئی آر مہم کے تحت وہی تفصیلات درج کریں جو 2002 کی فہرست میں موجود ہیں۔ معمولی فرق کا بہانہ بناکر ناموں کو فہرست سے حذف کیا جاسکتا ہے۔ آئندہ 10 دنوں تک تعلیم یافتہ نوجوان بوتھ لیول ایجنٹس کی طرح کام کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر موجودہ حالات پر توجہ نہیں دی گئی تو آنے والے دنوں میں حالات اور بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے چار فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کا دعویٰ کیا اور کہا کہ الیکشن سے قبل امیت شاہ نے تلنگانہ میں اعلان کیا تھا کہ بی جے پی برسراقتدار آنے پر مسلم تحفظات ختم کردیئے جائیں گے۔ ہم نے انہیں تلنگانہ سے پہلے گجرات میں مسلم تحفظات ختم کرنے کا چیلنج کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک میں سیکولرازم کے تحفظ کیلئے جدوجہد کر رہی ہے ۔ ریونت ریڈی نے تعلیم کے ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ کو ترقی کیلئے لازمی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے شفافیت کے ساتھ گروپ امتحانات کا انعقاد عمل میں لایا جبکہ بی آر ایس دور حکومت نے غیر تعلیم یافتہ افراد کو پبلک سرویس کمیشن میں شامل کیا گیا تھا۔ کانگریس حکومت نے یونین پبلک سرویس کمیشن کی طرز پر ریاستی کمیشن تشکلیل دیا اور ریٹائرڈ ڈی جی پی کو صدرنشین مقرر کیا گیا۔ ایک قابل اقلیتی نمائندہ کو کمیشن میں رکن مقرر کیا گیا تاکہ اردو میں امتحانات میں مدد ملے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گروپ I تقررات کو روکنے کیلئے ہائیکومت اور سپریم کورٹ میں درخواستیں داخل کی گئیں لیکن حکومت نے قابل وکلاء کے ذریعہ کامیابی حاصل کی۔ چیف منسٹر نے گروپ I منتخب امیدواروں سے کہا اکہ وہ آئندہ 35 برس تک ریاست کی ترقی کیلئے کام کرسکتے ہیں جبکہ سیاستداں کی ملازمت کی مدت صرف 5 سال ہے۔ پانچ سال بعد دوبارہ امتحان دینا ہوگا اور عوام فیصلہ کریں گے۔ تلنگانہ میں 11 ہزار ٹیچرس کے تقررات کئے گئے ۔ انہوں نے اقلیتوں کو ملک دشمن قرار دینے کی کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ ٹیچرس اسکولوں میں حب الوطن شہریوں کو تیار کرنے میں اہم رول ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے تین مسلم قائدین کو الیکشن میں ٹکٹ دیا لیکن وہ منتخب نہیں ہوئے۔ کابینہ میں مسلم نمائندگی کے طور پر اظہرالدین کو شامل کیا گیا اور بعد میں ایم ایل سی بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام اسکیمات میں اقلیتوں کو مناسب حصہ داری دی گئی ہے۔ باکسنگ چمپین نکہت زرین اور کرکٹر محمد سراج کو ڈی ایس پی کے عہدہ پر فائز کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نرسری تا 12 ویں تعلیم کے حصول کے بعد نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ پر توجہ دینی چاہئے ۔ مختلف ممالک میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ حکومت نے اسکل یونیورسٹی قائم کی اور آئی ٹی آئیز کو اڈوانسڈ ٹکنالوجی سنٹرس میں تبدیل کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تعلیمی ڈگری سے روزگار کا حصول ممکن نہیں اور اسکل ڈیولپمنٹ کے ذریعہ روزگار یقینی طور پر حاصل ہوسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے حج 2026 کے حجاج کرام کیلئے حکومت کی جانب سے فضائی کرایہ کے طور پر فی کس 10,000 روپئے ادائیگی اور مدینہ منورہ بس سانحہ کے پسماندگان کو ایکس گریشیا کی ادائیگی کا ذکر کیا اور کہا کہ کسی بھی تکلیف میں انہیں یاد کیا گیا تو وہ مدد کیلئے حاضر رہیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہندو اور مسلمان ان کی دو آنکھوں کی طرح ہیں اور وہ ہندوؤں کو دی جانے والی تمام سہولتیں مسلمانوں کو فراہم کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ اقلیتی اسکیمات کی تفصیلات پر مبنی تصویری نمائش کا چیف منسٹر نے افتتاح کیا ۔ ریاستی وزراء پی سرینواس ریڈی ، پونم پربھاکر، محمد اظہرالدین ، قانون ساز کونسل کے رکن مہیندر ریڈی ، صدرنشین حج کمیٹی مولانا سید غلام افضل بیابانی خسرو پاشاہ ، صدرنشین وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی ، صدرنشین ٹمریز فہیم قریشی، صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن عبیداللہ کوتوال، صدرنشین اردو اکیڈیمی طاہر بن حمدان ، عوامی نمائندوں اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے شرکت کی۔1/k