کلکٹرس اور دیگر عہدیدار مصروف، نئی فہرست کے مطابق اکتوبر کے بعد چناؤ ہوں گے
حیدرآباد۔ 24 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم (SIR) کا شیڈول جاری ہوچکا ہے اور الیکشن کمیشن نے بوتھ لیول آفیسرس کے ذریعہ گریٹر حیدرآباد اور اس کے اطراف کے حدود میں میاپنگ کا کام شروع کردیا ہے۔ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے نتیجہ میں سیاسی پارٹیوں کو اپنے اپنے حامیوں کے ناموں کے تحفظ کی فکر لاحق ہے۔ ایسے میں میونسپل کارپوریشنوں اور ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کے انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن، ملکاجگری اور سائبرآباد کارپوریشنوں کے انتخابات کے سلسلہ میں سیاسی پارٹیاں پر امید ہیں لیکن فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کا کام 25 جون سے شروع ہوگا جو 3 ماہ تک جاری رہے گا۔ ایسے میں اسٹیٹ الیکشن کمیشن کی جانب سے چناؤ کے انعقاد کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت حیدرآباد کے علاوہ سائبرآباد اور ملکاجگری کارپوریشنوں کے چناؤ اگست یا ستمبر میں منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی تھی لیکن ان ایام میں ایس آئی آر مہم عروج پر رہے گی۔ تلنگانہ کی قطعی فہرست رائے دہندگان یکم اکتوبر کو جاری کی جائے گی۔ عہدیداروں کا ماننا ہے کہ نظرثانی مہم کے سبب مجالس مقامی اور ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی چناؤ کے انعقاد میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ضلع کلکٹرس، آر ڈی او، ایم آر اوز، پنچایت عہدیدار اور دیگر فیلڈ آفیسرس ایس آئی آر مہم میں مصروف ہیں۔ حکومت پنچایت اور میونسپلٹیز کے انتخابی مرحلہ کو مکمل کرچکی ہے۔ حیدرآباد کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا اور کانگریس پارٹی تینوں کارپوریشنوں میں بہتر مظاہرہ کی امید کررہی ہے۔ ورنگل، کھمم، سدی پیٹ، اچم پیٹ اور کتور کارپوریشنوں کے انتخابات اکتوبر تا ڈسمبر کے درمیان منعقد ہوں گے اور نئی فہرست رائے دہندگان کے مطابق رائے دہی ہوگی۔ 1؍F