SIR مہم کے ذریعہ تلنگانہ میں ایک کروڑ سے زائد نام حذف کرنے کی سازش

,

   

غفلت سے کانگریس کو سیاسی نقصان ہوگا، کانگریس کا زوم اجلاس، میناکشی نٹراجن، مہیش گوڑ اور وزراء کی شرکت : ریونت ریڈی

حیدرآباد 16 جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی سے متعلق خصوصی مہم SIR پر توجہ دینے کی کانگریس قائدین اور کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیاکہ مہم کے دوران ریاست میں 1.08 کروڑ ووٹرس کے ناموں کو کسی نہ کسی بہانے سے حذف کرنے کی سازش ہے تاکہ کانگریس پارٹی کو دوبارہ برسر اقتدار آنے سے روکا جاسکے۔ ایس آئی آر مہم پر زوم اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے کی۔ اجلاس میں چیف منسٹر ریونت ریڈی، اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، ریاستی وزراء، پارلیمانی حلقوں کے انچارجس اور سینئر قائدین نے حصہ لیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ مرکزی حکومت تلنگانہ میں شبہ کی بنیاد پر بڑے پیمانہ پر ناموں کو حذف کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کانگریس پارٹی کو سیاسی طور پر نقصان ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ایس آئی آر مہم کو غیر سنجیدہ طور پر نمٹنے کے بجائے ہر کارکن کو چوکسی کے ساتھ اہل رائے دہندوں کے ناموں کی برقراری کے لئے مساعی کرنی چاہئے۔ چیف منسٹر نے لوک سبھا حلقہ جات کے انچارجس کو ہدایت دی کہ وہ اِس مہم کی نگرانی کریں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے ذریعہ 2028ء اسمبلی انتخابات کی فہرست اکٹوبر میں تیار کرلی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے شبہ کی بنیاد پر ناموں کو حذف کرنے کے بعد کچھ نہیں کیا جاسکتا لہذا مہم کے دوران ہی ناموں کے تحفظ کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اسمبلی کے 119 حلقہ جات کے ہر گاؤں میں بوتھ کے لئے الیکشن کمیشن نے آفیسرس کا تقرر کیا ہے۔ مقامی کانگریس قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بوتھ لیول آفیسرس کے ساتھ بہتر تال میل کے ذریعہ اہل رائے دہندوں کے ناموں کو یقینی بنائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کام کاج کے سلسلہ میں دیگر علاقوں کا رُخ کرنے والے افراد کے ناموں کا بھی تحفظ کیا جائے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ 20 جون کو اضلاع کے انچارج وزراء اور اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انچارجس کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ انچارج وزراء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر ضلع میں ایک متحرک ٹیم تیار کریں جو اِس کام کی نگرانی کرے۔ اُنھوں نے کہاکہ اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انچارجس کو کسی بھی دشواری کی صورت میں رجوع کیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے واضح کیاکہ ایس آئی آر مہم کے سلسلہ میں ذرا بھی غفلت مستقبل میں کانگریس کے لئے بھاری سیاسی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گاندھی بھون میں وار روم قائم کرتے ہوئے بوتھ سطح تک کے کارکنوں کی رہنمائی کی جائے۔ اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن نے SIR مہم سے کانگریس پارٹی کو نقصان کی سازش کا خلاصہ کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی الیکشن کمیشن کی مدد سے ووٹ چوری میں ملوث ہے۔ مغربی بنگال میں ووٹ چوری کے ذریعہ بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاستی سطح کے قائدین سے لے کر بوتھ سطح کے قائدین کو مہم پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔V/1