کوئی ثبوت نہیں ملا‘ پولیس نے اے ایم یو طلبہ پر سے سیڈیشن چارجس ہٹادئے۔
علی گڑھ۔ چالیس سے زائد ویڈیوز کی جانچ کے بعد ان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے کی صورت میں ‘ علی گڑھ پولیس نے اے ایم یو کے 14طلبہ
علی گڑھ۔ چالیس سے زائد ویڈیوز کی جانچ کے بعد ان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے کی صورت میں ‘ علی گڑھ پولیس نے اے ایم یو کے 14طلبہ
چیف میٹرو پولٹین مجسٹریٹ دیپک شراوت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ انتظامیہ سے معاملے میں سنجیدگی کے متعلق دلچسپی پر استفسار کریں‘ جس کے پیش نظر عدالت سے
ابتداء میں پولیس نے دونوں فریقین کے16لوگوں پر فساد‘ بے ہود زبان کے استعمال اور مجرمانہ سرگرمیوں کے تحت آنے والے ‘ اور دیگردفعات پر مقدمہ درج کیا‘ یوم جمہوریہ
دہلی پولیس کے اسپیشل سل جو مرکز کے قانونی دائرکار میںآتا ہے نے پیش کیاتھا کہ ’’ منظوری کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اور اندرون دوہفتہ ٹھیک اسی طرح
نئی دہلی۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق صدر او ردیگر نولوگوں کے خلاف درج کیس میں دہلی پولیس نے حکومت دہلی کومنظوری کی ایک ہفتہ قبل لکھا تھا‘ اس پر
یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران مبینہ طور پر ’’مخالف ہندوستان ‘‘ نعرے بازی کے تین سال پرانے سیڈ یشن کیس میں کنہیاکمار او ردیگر نو لوگ جس میں عمر
پولیس کے پاس چارج شیٹ میں ہے‘یہ بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ خام فوٹیج زی نیوز سے اکٹھا کیاگیا ہے ٹی وی پر اس کے متعلق مباحثہ بھی ہوا
پارلیمانی حلقہ بیگوسرائے ‘ بہار میں کمیونسٹ پارٹی کا مضبوط قلعہ مانا جاتا ہے ‘ کمار کے متعلق یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں وہ سی پی ائی کے وہاں
نئی دہلی۔ دہلی پولیس نے جے این یو میں مبینہ طور پر مخالف ملک نعرے لگانے کے معاملے میں قریب تین سال بعد اپنی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس
نئی دہلی۔جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے ٹیچرس اور طلبہ نے 9فبروری 2016کے واقعہ پر چارج شیٹ داخل پر اپنا تیکھا ردعمل پیش کیا۔زیادہ تر لوگوں نے الیکشن سے عین قبل چارج
نئی دہلی۔ دہلی پولیس جلد ہی جواہر لال نہرو یونیورسٹی( جے این یو) طالب علم یونین کے سابق صدر کنہیا کمار ‘ عمر حالد اور انربان بھٹاچاریہ اور کچھ دوسرے