2 ہزار روپے تک لین دین مفت، P2P ٹرانفر بھی بالکل مفت عوام کو راحت تاجرو پر بوجھ
حیدرآباد۔ 16 ستمبر (سیاست نیوز) حکومت ہند نے نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPei) اور وزارت فینانس کی ہدایت پر (UPI) کے ذریعہ کی جانے والی تاجرانہ ادائیگیوں (Merchant Payments) کے لئے ’نئے‘ قواعد اور مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ اس نئے فیصلے کا بنیادی مقصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید مضبوط بنانا اور بڑی تجارتی ادائیگیوں پر ہونے والے اخراجات کو منظم کرنا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس نئے قانون سے عام شہریوں کے لین دین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ البتہ بڑے پیمانے پر تجارت کرنے والے اداروں اور دکانداروں کے لئے چارجس کی نئی حد مقرر کی گئی ہے۔ مرچنٹ پیمنٹس سے مراد ہر وہ دکاندار، بزنسمین، شوروم، آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم یا سرویس فراہم کرنے والا ادارہ ہے جو اپنے سامان یا خدمات کے بدلے گاہکوں سے (UPI) کیو آر کوڈ یا بزنس اکاؤنٹ کے ذریعہ ادائیگی قبول کرتا ہے۔ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) کا مطلب ڈیجیٹل پیمنٹ نیٹ ورک، بینکوں اور یوپی آپی ایپس کو چلانے اور محفوظ بنانے کے بدلے جو فیس تاجروں سے وصول کی جاتی ہے اسے MDR کہا جاتا ہے۔ ایک عام شہری کا دوسرے عام شہری کو پیسے بھیجنا (PXP) بالکل مفت رہے گا اور اس پر کوئی مرچنٹ چارج لاگو نہیں ہوگا۔ حکومت کے نوٹیفکیشن کے حساب سے چارجس کا تعین اس طرح کیا گیا ہے۔ 2 ہزار روپے کی ادائیگی مکمل مفت رہے گی۔ چھوٹی دکانوں، ترکاری، راشن اور روز مرہ کی خریداری پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں ہوگا۔ 2 ہزار روپے کے بعد سے 70 ہزار روپے تک کل رقم کا 0.40 فیصد بطور تاجرانہ چارج (MDR) وضع کیا جائے گا۔ 75 ہزار روپے سے زائد (ایک تا پانچ لاکھ روپے) بڑی ادائیگیوں پر چارجس کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یعنی رقم چاہے کتنی ہی بڑی ہو 300 روپے سے زیادہ چارج نہیں کیا جائے گا۔ 3 ہزار روپے کی تاجرانہ ادائیگی پر 12 روپے 10 ہزار روپے تاجرانہ ادائیگی پر 40 روپے، 20 ہزار روپے کی تاجرانہ ادائیگی پر 80 روپے، 50 ہزار روپے کی تاجرانہ ادائیگی پر 200 روپے، 75 ہزار روپے یا اس سے زائد کی ادائیگی پر 300 روپے چارج کیا جائے گا۔ عام صارفین کیلئے یو پی آئی کا استعمال پہلے کی طرح مفت رہے گا۔ چھوٹے تاجروں اور عام خریداری پر کوئی چارج نہیں لگے گا۔ 2 ہزار روپے سے زائد کی ڈیجیٹل وصولی پر دکانداروں کو 0.40 فیصد کا چارج ادا کرنا ہوگا جس سے چھوٹے اور متوسط درجے کے تاجروں پر کچھ مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ 2؍F