زرعی اراضیات کا تحفظ، آلودگی سے بچاؤ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا صنعتی ترقی پر اعلیٰ سطحی اجلاس
حیدرآباد 18 ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ آؤٹر رنگ روڈ کے باہر اور ریجنل رنگ روڈ کے اندرونی حصہ میں نئی صنعتی راہداریوں کے قیام کیلئے 500 تا 1000 ایکر اراضی کی نشاندہی کی جائے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ صنعتی راہداریوں کیلئے مختص کردہ اراضی ایئرپورٹ، قومی شاہراہ اور ریاستی شاہراہوں سے 50 تا 100 کیلو میٹر کے حدود میں ہونی چاہئے۔ چیف منسٹر نے آج سکریٹریٹ میں صنعتی ترقی کے موضوع پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور محکمہ صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے واضح کیاکہ صنعتوں کے قیام کیلئے حاصل کی جارہی اراضیات کاشت کے قابل نہیں ہونی چاہئے۔ کاشتکاری کی اراضیات کو صنعتوں کے قیام کیلئے استعمال نہ کیا جائے کیونکہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ صنعتی ترقی کے لئے کسانوں کو نقصان پہنچانا حکومت کا مقصد نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں صنعتوں کیلئے الاٹ اراضیات اور ایسی اراضیات جن کا ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا اُن کی تمام تفصیلات پیش کی جائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاست میں صنعتوں کے قیام کیلئے سابق میں کئی کمپنیوں کو اراضیات الاٹ کی گئیں۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ کمپنیوں کے قیام کی تفصیلات اور موجودہ موقف سے حکومت کو واقف کرائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ شہر کے اطراف صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں آلودگی سے بچاؤ پر توجہ دی جائے۔ حیدرآباد میں ناچارم، جیڈی میٹلہ، کاٹے دان اور دیگر علاقوں میں آلودگی کا سبب بننے والی صنعتوں کی منتقلی کیلئے متبادل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ متحدہ اضلاع میں صنعتوں کے قیام کیلئے اراضیات کی نشاندہی کی جائے گی۔ کسانوں سے مکمل تعاون حاصل کرتے ہوئے اراضیات کے حصول کی کوشش کی جائے۔ دیہاتوں کو ماڈل دیہاتوں کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے بالانگر میں آئی ڈی پی ایل کی اراضیات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں چیف سکریٹری شانتی کماری، اسپیشل چیف سکریٹری انڈسٹریز جیش رنجن، پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق دانا کشور، ڈائرکٹر انڈسٹریز کرشنا بھاسکر، چیف منسٹر آفس کے عہدیداروں شیشادری، شیودھر ریڈی اور شاہنواز قاسم نے شرکت کی۔