خاندانی تنازعہ سے کانگریس کو کوئی دلچسپی نہیں، چیف منسٹر پر الزام تراشی کی مذمت
حیدرآباد۔ 3 ستمبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی آر ایس رکن کونسل نے بعض تلخ حقائق کے ساتھ بعض سفید جھوٹ سے کام لیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کے سی آر سے کویتا کی علیحدگی کے بارے میں شبہات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ میں مبینہ بے قاعدگیوں سے متعلق پی سی گھوش کمیشن رپورٹ اور سی بی آئی تحقیقات کے فیصلے کے بعد کے سی آر خاندان نے نیا ڈرامہ شروع کیا ہے۔ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کے سی آر خاندان نے نئی ڈرامہ بازی شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ رکن کونسل کے طور پر کویتا کے استعفی کو بہتر نتیجہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 10 سالہ بی آر ایس کے دور اقتدار میں کویتا اہم فیصلوں میں حصہ دار رہیں۔ کویتا کی شراکت کے بغیر کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی ہے۔ 5 سال قبل کویتا اگر استعفی دیتیں تو عوام ان پر بھروسہ کرسکتے تھے۔ 10 سالہ اقتدار میں تمام بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں میں کویتا ملوث رہیں اور اب حصہ داری کی تقسیم کے لئے آپس میں دست و گریباں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس کو ہریش راؤ یا سنتوش راؤ کی سرپرستی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے بدعنوانیوں کی کبھی بھی تائید نہیں کی۔ صدر پردیش کانگریس نے خاندانی تنازعہ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کا نام گھسیٹنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کا وجود آئندہ انتخابات تک باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ امریکہ سے واپسی کے بعد کویتا نے اپنا نشانہ تبدیل کرتے ہوئے ہریش راؤ پر الزام تراشی شروع کردی ہے جبکہ امریکہ روانگی سے قبل کے ٹی آر ان کے نشانہ پر تھے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر پر تنقید کے ذریعہ بی آر ایس قائدین بدعنوانیوں کے الزامات سے بچنا چاہتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ انتخابات تک بی آر ایس کا صفایا ہوجائے گا۔ 1