حیدرآباد۔18۔اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران ہلکی اور تیز بارش کی پیش قیاسی کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے شہر حیدرآباد کے لئے ’زرد الرٹ‘ جاری کیا ہے اور کہا جارہاہے کہ دونوں شہروں میں بارش کا سلسلہ آئندہ 48 گھنٹوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔شہر حیدرآباد کے کئی علاقوں میں آج موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ کئی علاقوں میں ہلکی بوندا باندی ریکارڈ کی گئی ۔ جھارکھنڈ‘ اوڈیشہ اور خلیج بنگال کے موسم میں ریکارڈ کی جانے والی موسمی تبدیلی کے اثرات تلنگانہ کے اضلاع پر مرتب ہورہے ہیں اور آئندہ چند یوم کے دوران مطلع ابرآلود رہنے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہاہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں دوپہر کے بعد ریکارڈ کی جانے والی بارش کے متعلق جاری کئے گئے اعداد و شمارمیں کہاگیا ہے کہ مشیر آباد‘ میڑچل ‘ شیرلنگم پلی اور دیگر علاقوں میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی ۔3/k/i
جبکہ دونوں شہروں کے کئی علاقوں میں وقفہ وقفہ سے ہونے والی بارش کے نتیجہ میں موسم سرد ہوگیا۔بتایاجاتاہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو کہ آئندہ 3یوم تک جاری رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی جانے والی پیش قیاسی میں کہاگیا ہے کہ خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کے اثرات محض سرحدی ریاستوں یا اضلاع تک محدود نہیں ہیں بلکہ شمالی ہند کی ریاستوں کے مختلف شہروں میں بھی موسلادھار بارشوں کاسلسلہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیاگیا ہے۔جنوبی ہند کی ریاستوں تلنگانہ ‘ آندھراپردیش کے علاوہ کرناٹک کے بھی بعض شہروں میں مطلع ابر آلود ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جارہاہے کہ منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب دونوں شہروں کے کئی علاقوں میں انتہائی موسلادھار بارش ریکارڈکئے جانے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی جانے والی پیش قیاسی کے بعد ضلع انتظامیہ کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے نشیبی علاقوں کے مکینوں پر خصوصی نظر رکھنے کے علاوہ موسلادھار بارش کی صورت میں پانی کے نکاسی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ محکمہ آبرسانی نے دونوں ذخائر آب حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے علاوہ ریاست کے دیگر ذخائر آب میں جمع ہونے والے پانی کی سطح پر بھی خصوصی نظر رکھنی شروع کردی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹنے کے اقدامات کئے جاسکیں۔3