آبپاشی پراجکٹس پر اسمبلی میں وائیٹ پیپر پیش کرنے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اعلان

   

تاج محل کے مماثل کالیشورم غرق کیسے ہوا، عوام کو جاننے کا حق،کئی افراد کے لیے پراجکٹ اے ٹی ایم بن چکا تھا
حیدرآباد۔/13 فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ کالیشورم کی بی آر ایس حکومت نے تاج محل کی طرح عالمی عجائبات کے طور پر دنیا میں تشہیر کی تھی لیکن پراجکٹ میں نقائص اور دھاندلیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں چیف منسٹر نے کالیشورم اور میڈی گڈہ بیاریج پر اظہار خیال کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت آبپاشی پراجکٹس پر اسمبلی میں وائیٹ پیپر پیش کرے گی اور مباحث کے ذریعہ پراجکٹس میں دھاندلیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کو بے قاعدگیوں کے بارے میں واقف کرانے کی ضرورت ہے اور عوام کا حق ہے کہ وہ حقائق سے واقف ہوں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وائیٹ پیپر پر مباحث کے ذریعہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کالیشورم کن قائدین کیلئے اے ٹی ایم بن چکا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس عوام کیلئے مقدس مقامات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تلنگانہ میں خشک سالی اور نقل مکانی سے عاجز آکر عوام نے علحدہ ریاست کیلئے جدوجہد کی تاکہ فصلوں کو پانی دستیاب ہو۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی زراعت کا انحصار کرشنا اور گوداوری دریاؤں پر ہے۔ سابق وزیر دیویندر گوڑ نے پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کیلئے یاترا کی تھی اور کانگریس حکومت نے پراجکٹ کے کام کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم کے ذریعہ میڈی گڈہ ، انارم، سندیلا اور مڈ مانیر بیاریجس کے ذریعہ زرعی شعبہ اور عوام کو پینے کے پانی کی سربراہی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کالیشورم کی ری ڈیزائننگ کے ذریعہ1.47 کروڑ کا تخمینہ تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈی گڈہ بیاریج کے کئی پلرس غرق ہوگئے جسے سابق حکومت نے بم دھماکہ کا نتیجہ قرار دیا حالانکہ بم دھماکہ سے اشیاء ہوا میں اُڑ جاتی ہیں نہ کہ غرق ہوتی ہیں۔ حقائق کی پردہ پوشی کیلئے میڈی گڈہ بیاریج پر واگا سرحد کی طرح سخت سیکوریٹی تعینات کی گئی اور کسی کو معائنہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ویجلینس انفورسمنٹ عہدیداروں نے بیاریج کی تعمیر میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے لہذا ارکان اسمبلی کو معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کو دورہ کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے کالیشورم کو دنیا بھر میں عالمی عجائبات کے طور پر پیش کیا تھا۔ کالیشورم کو تاج محل کی طرح دنیا کہ عجوبہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر سے ستائش حاصل کی گئی لیکن یہ پراجکٹ غرق ہوچکا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ عوام کو حقائق جاننے کا کیا حق نہیں ہے؟ ناقص تعمیرات کیلئے کون ذمہ دار ہیں اس پر اسمبلی میں مباحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سابق چیف منسٹر کے سی آر کو دورہ کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر بس کے سفر میں دشواری ہے تو حکومت ہیلی کاپٹر کا انتظام کرنے تیار ہے اور بیگم پیٹ ایر پورٹ سے ہیلی کاپٹر اُڑان بھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو اپنے تجربات سے دیگر ارکان کو واقف کرانے کی پہل کرنی چاہیئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ میں نے بھی کبھی وزارت کی ذمہ داری نہیں سنبھالی اور میں کے سی آر کے تجربات سے سیکھنے کیلئے تیار ہوں۔ اسمبلی میں مباحث کے ذریعہ اس بات کا انکشاف کیا جائے گا کہ کالیشور راؤ کون ہیں اور کس کس کیلئے یہ پراجکٹ اے ٹی ایم بن چکا تھا۔1