میڈی گڈہ بیاریج کی تعمیر میں نقائص، تحقیقاتی رپورٹ سے عہدیداروں میں ہلچل
حیدرآباد 3 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ویجلنس کمیشن نے کالیشورم پراجکٹ سے مربوط میڈی گڈہ بیاریج کی تعمیر میں نقائص کیلئے محکمہ جات آبپاشی اور کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ کے 57 عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ۔ کمیشن نے حکام کے خلاف کریمنل ، پنشن اور محکمہ جاتی کارروائی اور رقومات کی ریکوری کی بھی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے جن عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی اُن میں کئی موجودہ اور ریٹائرڈ عہدیدار شامل ہیں۔ میڈی گڈہ بیاریج کے بلاک نمبر 7 کے انہدام میں نقائص کا پتہ چلانے حکومت نے ویجلنس کمیشن کو تحقیقات کی ذمہ داری دی تھی۔ کمیشن نے 18 مارچ کو رپورٹ حکومت کو پیش کی جسے تاخیر سے جاری کیا گیا ۔ کالیشورم کمیشن سے کے سی آر، ہریش راؤ اور راجندر کو طلب کئے جانے کے پس منظر میں کمیشن کی رپورٹ اہم ہے۔ کمیشن نے جن دفعات کے تحت کارروائی کی سفارش کی اُن میں آئی پی سی انسداد کرپشن قانون اور ڈیم سیفٹی ایکٹ شامل ہیں۔ 17 عہدیداروں اور کنٹراکٹرس کی کمیشن نے نشاندہی کی ۔ کمیشن نے میڈی گڈہ بیاریج کی تعمیر میں رقومات کے حصول کے طریقہ کار پر بھی اعتراض جتایا اور رقومات کے استعمال میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ کمیشن نے 33 عہدیداروں کے خلاف تلنگانہ سیول سرویس رولز 1991 کے تحت کارروائی کی سفارش کی ہے۔ جن عہدیداروں کو قصوروار پایا گیا اُن میں سابق انجینئر اِن چیف مرلی دھر، کالیشورم پراجکٹ کے سابق انجینئر اِن چیف این وینکٹیشورلو، ہری ہرا چاری، اے نریندر ریڈی شامل ہیں۔ کمیشن رپورٹ سے محکمہ آبپاشی میں ہلچل دیکھی جارہی ہے۔ توقع ہے کہ کابینہ اجلاس میں رپورٹ کا جائزہ لے کر کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔1