آدھار کارڈس اپ ڈیٹ کے لیے طویل قطاریں

   

6 گیارنٹی سے استفادہ کے لیے آدھار لازمی ، عوام کی دوڑ دھوپ
حیدرآباد ۔ 28 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت کی جانب سے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کا آغاز ہوگیا ہے ۔ ان گیارنٹیوں پر عمل کے لیے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ نئے آدھار کارڈس کی اجرائی اور موجودہ آدھار کارڈ کو اپ ڈیٹ کرانے کے لیے عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر دوڑ دھوپ شروع ہوگئی ہے ۔ عوام حکومت کی ان سہولتوں سے استفادہ کرنے کے لیے بھاری تعداد میں آدھار سنٹرس کو پہونچ رہے ہیں اور قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ۔ آدھار سنٹرس پر اچانک عوام کا ہجوم بڑھ جانے پر انتظامیہ کی جانب سے قطاروں میں کھڑے ہونے والوں کو ٹوکن نمبر دیا جارہا ہے ۔ آدھار کارڈس میں شادیوں کے اندراج ، خاندانی نام ، پتہ کی تبدیلی ، ملازمتوں کی تفصیلات ، سکونت ، موبائل نمبر کی تبدیلی سے متعلق اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے ۔ ہر اسکیم سے استفادہ کے لیے آدھار لازمی ہے جس کے تناظر میں عوام آدھار کی غلطیوں کو دور کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ آدھار کارڈ جھونپڑی میں رہنے والے غریب عوام سے عالیشان عمارتوں میں رہنے والوں کے لیے اب ضروری ہوگیا ہے کیوں کہ ہر شہری کے پاس حکومت ہند کی طرف سے تفویض کردہ ایک منفرد شناختی نمبر ہوتا ہے جو ہر کام کے لیے لازمی ہوگیا ہے ۔ سرکاری ہو یا خانگی ہر کام سرکاری اسکیمات سے فائدہ اُٹھانے کے لیے آدھار ضروری ہوگیا ہے ۔ ہر خاندان کو کھانا پکانے کے پکوان گیس ، بچوں کے اسکولس میں داخلے کے لیے موبائل سم کنکشن ، غیر منقولہ اور منقولہ اثاثوں کی رجسٹریشن کے لیے آدھار ضروری ہوگیا ہے ۔ تمام سرکاری اسکیمات جیسے راشن کارڈ ، سماجی پنشن ، اسکالر شپ ، بینکنگ ، انشورنس وغیرہ کے لیے آدھار ضروری ہوگیا ہے ۔ ٹیکس وغیرہ کی ادائیگی کے لیے بھی آدھار طلب کیا جارہا ہے ۔ حیدرآباد میں آبادی سے زیادہ آدھار کا اندراج ہے جو ایک کاسموپولیٹن شہر کے طور پر توسیع پا رہا ہے ۔ لوگ روزگار کے لیے دوسری ریاستوں سے نقل مقام کرتے ہوئے حیدرآباد پہونچ رہے ہیں ۔ میگا سٹی میں سالانہ 8 تا 12 فیصد کا اضافہ ہورہا ہے۔۔ 2