آر ایس پروین کمار بی ایس پی کی صدارت و رکنیت سے مستعفی

   

کے سی آر سے ملاقات بی آر ایس کے ٹکٹ پر حلقہ لوک سبھا ناگر کرنول سے مقابلہ کرنے کا امکان
حیدرآباد ۔ 16 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ بی ایس پی کے سربراہ آر ایس پروین کمار لوک سبھا انتخابات سے عین قبل بی ایس پی کی صدارت اور پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے اور اس کے فوری بعد بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر سے ملاقات کی ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وہ حلقہ لوک سبھا ناگر کرنول سے بی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ واضح رہے کہ لوک سبھا انتخابات کے لیے ریاست میں بی آر ایس اور بی ایس پی کے درمیان اتحاد ہوگیا تھا ۔ بی ایس پی نے تین حلقوں کا مطالبہ کیا تھا تاہم کے سی آر نے حیدرآباد اور ناگر کرنول کی نشستیں چھوڑنے سے اتفاق کرتے ہوئے اس کا سرکاری طور پر اعلان کیا تھا تاہم ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی ایس پی کی قومی صدر مایاوتی نے بی آر ایس سے اتحاد کی مخالفت کی اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے کا پروین کمار پر دباؤ بنایا تھا جس سے پروین کمار نے اتفاق نہیں کیا بی آر ایس سے اتحاد ختم کرنے کے بجائے خود بی ایس پی کے عہدے اور رکنیت سے مستعفی ہوگئے ۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دی اور بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر سے ملاقات کی ۔ دونوں کے درمیان کافی دیر تک تبادلہ خیال ہوا اس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پروین کمار نے کہا کہ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے انڈیا اتحاد اور این ڈی اے میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا ۔ دونوں گروپس کا حصہ نا رہنے والے مقامی سیکولر جماعتوں سے سیاسی اتحاد کرنے سے اتفاق کیا تھا ۔ پارٹی کی قومی قیادت سے مشاورت کے بعد ہی بی آر ایس سے اتحاد کیا گیا تھا تاہم ہمارا اتحاد بی جے پی کو پسند نہیں آیا مجھے پر ٹیلی فون کرتے ہوئے بی آر ایس سے اتحاد ختم کرلینے کا دباؤ بنایا گیا میں نے اس کو قبول نہیں کیا جس کی وجہ سے ای ڈی نے کویتا کو گرفتار کرلیا۔ 2
ریاست کے عوامی مفادات بالخصوص بہوجن سماج کی ترقی و بہبود کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ بی ایس پی کی ریاستی صدارت اور رکنیت سے مستعفی ہوگئے بہت جلد اپنے مستقبل کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے ۔۔ 2