20 سال بعد قیمتوں پر نظر ثانی ، نئے چارجس پر 22 جولائی سے اطلاق
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ آر ٹی سی نے مختلف سیس کی شکل میں مسافرین پر اضافی بوجھ عائد کرنے کے بعد اب لگیج کے چارجس میں اضافہ کرتے ہوئے مزید بوجھ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پلے ویلگو بسوں میں 25 کلو میٹر کی دوری پر لگیج پر ایک روپیہ چارجس وصول کیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر 20 روپئے کردیا گیا ہے ۔ اس طرح ایکسپریس و دوسرے زمرے کی بسوں پر اتنے ہی فاصلے پر 2 روپئے چارجس وصول کیا جاتا تھا اس کو بڑھا کر 50 روپئے کردیا گیا ہے ۔ سٹی بسوں کو بھی اس سے استثنیٰ نہیں رکھا گیا ۔ لگیج کے چارجس میں بڑے پیمانے پر اضافہ کردیا گیا ہے ۔ جس کا اطلاق 22 جولائی سے ہوگا ۔ واضح رہے کہ آر ٹی سی بسوں میں لگیج کی قیمت 2002 مقرر ہوئی تھی جس پر ابھی تک عمل آوری ہورہی ہے ۔ ان 20 سال کے دوران آر ٹی سی شرحوں میں کئی مرتبہ اضافہ کیا گیا تاہم لگیج چارجس پر کبھی نظر ثانی نہیں کی گئی ۔ نقصان میں چلنے والے آر ٹی سی کو نفع بخش ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے ڈیزل سیس نافذ کیا گیا اور مختلف طریقوں سے آر ٹی سی بسوں کے ٹکٹوں میں اضافہ کیا گیا جس سے آر ٹی سی کے 97 کے منجملہ 19 بس ڈپوز فائدے میں آگئے ۔ جس کے بعد آر ٹی سی نے تازہ طور پر لگیج کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ۔ تلنگانہ آر ٹی سی نے اشیاء کی ٹرانسپورٹ کے لیے خصوصی کارگو بس سرویس کا آغاز کیا ہے ۔ تاہم چند لوگ کارگو چارجس سے بچنے کے لیے اشیاء کو عام بسوں میں منتقل کررہے ہیں جس کے چارجس برائے نام ہیں ۔ ڈرائیورس اور کنڈاکٹرس کچھ رقم لے کر اشیاء منتقل کرنے کی اجازت دے رہے ہیں جس سے آر ٹی سی کو نقصان ہورہا ہے ۔ جس کی وجہ سے لگیج کے چارجس میں اضافہ کرنے کا آر ٹی سی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے ۔۔ ن