آرمور۔ 8 جولائی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ کو آرمور، ضلع نظام آباد کے ایک انتہائی اہم اور حساس قانونی معاملے میں شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے مقامی اسکول کے پرنسپل عامر خان کے خلاف درج کردہ مقدمے میں عائد کردہ سنگین اور ناقابل ضمانت دفعات کو ختم کرتے ہوئے انہیں بڑی قانونی راحت فراہم کی ہے۔ کونسل کے شعبہ قانونی امداد نے اس پورے معاملے میں پہلے دن سے مظلوم پرنسپل کی بھرپور وکالت اور قانونی معاونت کی ذمہ داری نبھائی۔واضح رہے کہ گزشتہ 27 جون 2026ء کو آرمور، ضلع نظام آباد میں واقع ایک اسکول کے پرنسپل عامر خان پر بعض شرپسند عناصر اور بی جے پی لیڈروں نے پولیس کی موجودگی میں حملہ کیا اور انہیں شدید ہراساں و زدوکوب کیا۔ پولیس نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے بجائے خود پرنسپل عامر خان اور اسکول کی اردو ٹیچر اُم ہانی کے خلاف ہی بی این ایس (BNS) کی دفعہ 196 کے تحت سنگین اور ناقابل ضمانت مقدمہ درج کر لیا تھا۔ ملی کونسل تلنگانہ کے جنرل سکریٹری مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے واقعے کے فوری بعد اس معاندانہ کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی اور کونسل کی داخلی میٹنگ میں مظلوم عامر خان کو مکمل قانونی امداد فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا تھا۔ کونسل نے نہ صرف پہلے دن سے پرنسپل کو مسلسل قانونی مشاورت فراہم کی، بلکہ اس مقدمے کے تمام تر اخراجات بھی خود برداشت کیے۔ الزامات کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے کونسل نے فوری طور پر تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔عدالتی کارروائی میں ملی کونسل تلنگانہ کے شعبہ قانونی امداد کی سکریٹری اور ممتاز قانون دان افسر جہاں نے بتایا کہ انہوں نے معزز تلنگانہ ہائی کورٹ میں عامر خان کی جانب سے پرزور وکالت کی۔ معزز عدالت نے ایڈووکیٹ افسر جہاں کے دلائل کو قبول کیا اور احکامات جاری کیے کہ ملزم پرنسپل عامر خان کو گرفتار نہ کیا جائے، اور وہ بی این ایس ایس (BNSS) کی دفعہ 35 (3) کے تحت تفتیش میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ نے عزم کیا ہے کہ وہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہائی کورٹ میں جلد ہی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کرے گی۔ اس کے علاوہ، بی جے پی کے مدعیان اور شرپسند عناصر پر پولیس کی جانب سے جو معمولی اور نمائشی دفعات لگائی گئی تھیں، ان کے خلاف بھی کونسل سخت قانونی کارروائی اور سنگین دفعات کے اندراج کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی تاکہ مظلوم کو مکمل انصاف مل سکے اور مستقبل میں کوئی اس طرح کی حرکت نہ دہرائے۔